خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 699 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 699

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۹۹ خطبہ جمعہ ۱۳ رستمبر ۱۹۷۴ء جھگڑے اور ظلم ہوتے ہیں دراصل ان کی جڑ یہ فساد ہی ہوتا ہے۔انسان کسی (دوسرے) کا حق دینے سے گریز کرتا ہے اور اپنا حق لینے کے لئے دوسرے کا سر پھوڑنے کے لئے ) تیار ہو جاتا ہے۔پس ہر ایک احمدی کا جو حق ہے وہ اسے ملنا چاہیے خواہ وہ کوئی ہو۔ہمارا اشد ترین مخالف بھی ہے تب بھی ہر احمدی یہ کہتا ہے کہ اس کے جو حقوق خدا تعالیٰ نے اور ہمارے دستور نے اور قانون نے بنائے ہیں وہ انکو ملنے چاہئیں۔کسی احمدی یا کسی جماعت احمد یہ یا مرکز احمدیت کا یہ مطالبہ نہ کبھی ہوا نہ کبھی ہمارے دماغوں میں آیا بلکہ ہم تو ہمیشہ اپنے بھائیوں اور دوستوں کو جو احمدی نہیں اور جن پر انتظامی ذمہ داریاں ہیں ان سے باتیں کرتے ہوئے انہیں سمجھایا کرتے ہیں کہ دیکھو ہر آدمی کا جو بھی حق ہے وہ اسے ملنا چاہیے۔قطع نظر اس کے کہ وہ احمدیت کی مخالفت کرتا ہے یا احمدی ہے یا احمدیت کے متعلق نہ مخالفانہ رائے رکھتا ہے اور نہ اسے قبول کرتا ہے۔خدا تعالیٰ نے انسان کے جو حقوق قائم کئے ہیں وہ اسے ملنے چاہئیں ورنہ تو ساری دنیا میں فساد پیدا ہو جائے گا۔پس لڑائی جھگڑے جنہیں ہم عام معنوں میں فساد کہتے ہیں ان کی جڑ ہی یہ ہے کہ انسانوں کے ایک گروہ کو ان کے حقوق نہیں ملتے اور وہ بے چین ہو جاتے ہیں۔ان کو اتنا غصہ چڑھتا ہے کہ وہ اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے دوسروں کے حقوق مارنے شروع کر دیتے ہیں اور اس طرح غلط قسم کا چکر چل پڑتا ہے۔پس ایک احمدی چونکہ اپنے دل میں خَشْيَتُ اللہ رکھتا ہے اور چونکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اسے کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو جائے اس لئے وہ کہتا ہے کہ مجھے کوئی کام ایسا نہیں کرنا چاہیے جو فساد کا موجب ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَاللهُ لا يُحِبُّ الْفَسَادَ اللہ تعالیٰ فساد سے پیار نہیں کرتا۔اگر اللہ تعالیٰ فساد سے پیار نہیں کرتا تو فسادی سے پیار کیسے کرے گا۔پس ایک احمدی کا رد عمل کے رستمبر کی قرارداد پر ایسا نہیں ہوگا کہ اس میں دنیا ظلم کا شائبہ دیکھے اور نہ ایسا ہو گا کہ اس کے نتیجہ میں فساد پیدا ہو اور لوگوں کی حقوق تلفی ہو یا ان کے حقوق تلف ہونے کے حالات پیدا ہو جائیں کیونکہ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض جگہ فساد کے نتیجہ میں وہ لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں جو فسادی نہیں ہوتے اور نہ وہ کسی کے حقوق تلف کر رہے ہوتے ہیں مگر