خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 630 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 630

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۳۰ خطبہ جمعہ ۲۸ جون ۱۹۷۴ء ایک گھونٹ چھوڑ دیا میں نے کہا پئیں گی؟ تو اُنہوں نے کہالا میں پیتی ہوں تو جو نہی نیم کا جوشاندہ منہ کو لگا یا اور چہرے کی حالت بدلی اور اعصاب کھنچے تو وہ حالت دیکھنے والی تھی۔ایک دفعہ ہمارے ایک زمنید ارسا تھی تھے۔ملیریا کے دن تھے۔میں کونین کی گولی کھانے لگا۔ہمارے زمیندار بھائی اگر جوش میں ہوں تو اپنے دعوئی میں بڑے سخت بھی ہو جاتے ہیں۔میں نے کہا کونین کھائی جائے۔کہنے لگے ہاں میاں صاحب کھائی جائے۔میں نے کونین کی ایک گولی منہ میں ڈال کر دانتوں سے اچھی طرح چبائی اور پھر منہ کھول کر کہا کہ اس طرح کھائی جائے وہ کہنے لگے ہاں جی ! اسی طرح کھائی جائے۔میں نے گولی دے دی اور چونکہ اُنہوں نے کہا ہوا تھا اُسی بیچ میں اُنہوں نے اسی طرح کونین کی گولی چبائی اور مجھے بڑی مشکل سے منہ کھول کر کہا اس طرح؟ اور منہ اور گردن کے سارے پٹھے اکڑ گئے اور اڑتالیس گھنٹے تک وہ ہنستے تھے اور دنیا سمجھتی تھی کہ یہ دور ہے ہیں۔یہ حالت ہو گئی تھی۔تو مادی کڑواہٹوں کو نین وغیرہ کی برداشت کی طاقت ہر ایک کو خدا نے نہیں دی لیکن زندگی کی دوسری کڑواہٹیں جو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں دیتے ہوئے پیش آتی ہیں وہ ہم ہنستے مسکراتے برداشت کر جاتے ہیں اور دوسروں کو پتہ بھی نہیں لگتا۔یہ ہے ایک احمدی کی شان اور جیسا کہ میں نے کہا کوئی احمدی اس بات کے لئے تیار نہیں ہوگا کہ وہ دو لعنتیں اپنے پر اکٹھی کر لے۔ایک دنیا کی لعنت اور ایک اللہ تعالیٰ کی لعنت۔اگر کوئی ایسا احمدی ہے تو کھڑا ہو جائے ہم بھی اس کی شکل دیکھ لیں۔یقیناً کوئی احمدی ایسا نہیں ہوسکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔”اے میرے دوستو ! جو میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہو۔خدا ہمیں اور تمہیں اُن باتوں کی توفیق دے جن سے وہ راضی ہو جائے۔آج تم تھوڑے ہو اور تحقیر کی نظر سے دیکھے گئے ہو اور ایک ابتلا کا وقت تم پر ہے اُسی سنّت اللہ کے موافق جو قدیم سے جاری ہے۔ہر یک طرف سے کوشش ہو گی کہ تم ٹھوکر کھاؤ اور تم ہر طرح سے ستائے جاؤ گے اور طرح طرح کی باتیں تمہیں سننی پڑیں گی اور ہر یک جو تمہیں زبان یا ہاتھ سے دُکھ دے گا وہ خیال کرے گا کہ اسلام کی حمایت کر رہا ہے۔اور کچھ آسمانی ابتلا بھی تم پر آئیں گے تائم