خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 629
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۲۹ خطبہ جمعہ ۲۸ جون ۱۹۷۴ء تھے۔مجھے یاد ہے ہمارے سروں پر سے سکھوں اور ہندوؤں کی گولیاں ”شوں کر کے نکل رہی ہوتی تھیں اور میں اپنے ساتھیوں کے چہروں پر بشاشت پیدا کرنے کے لئے ان کو لطائف سنا تا تھا اور ہم قہقہے لگایا کرتے تھے۔میں اپنی ساری عمر میں اتنا نہیں ہنسا جتنا اُن دو مہینوں میں ہنسا ہوں۔اس واسطے جب مخالف یہ کہتا ہے یا نادان منکر یہ کہتا ہے کہ ہم تمہارے چہروں سے مسکراہٹیں چھینے کے لئے ایسا کر رہے ہیں تو ایک متقی مومن جو اللہ تعالیٰ کی طاقتوں کو پہچانتا ہے اور اُس کی معرفت رکھتا ہے اُسے کہتا ہے کہ جو مرضی کرو تم میرے چہرے کی مسکراہٹیں نہیں چھین سکتے۔کیونکہ ان مسکراہٹوں کا منبع اسلام کو غالب کرنے کا فیصلہ کرنے والے کا وہ پیار ہے جو ظاہراً بھی اور باطنا بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں ملتا ہے۔اس لذت اور سرور میں زندگی گزار نے والے کے چہرے کی مسکراہٹیں کون چھین سکتا ہے؟ دنیا کی کوئی طاقت نہیں چھین سکتی۔یہ جو قہوہ میں پی رہا ہوں یہ پھیکا سبز قہوہ ہے اور آج کل چونکہ ہمارے ملک میں فساد کی وجہ سے ادویہ کا ملنا ذرا مشکل ہو گیا ہے۔اس قہوہ سے بہت سی پیٹ کی تکلیفوں سے انسان بچ جاتا ہے۔میں نے پہلے بھی جماعت کو کہا تھا کہ جن سے ہو سکتا ہے وہ پانی ابال کر پئیں اور اس میں دو چار پتیاں سبز چائے کی ڈال دیں تو سبز قہوہ بن جائے گا۔اور بالکل ہلکا سا موتیا رنگ پانی میں آجائے گا۔اور جو اُبلے ہوئے پانی میں بکی کا پن ہوتا ہے وہ بھی نہیں رہے گا بلکہ خوشبو اور ذائقہ چائے کا آجائے گا یہ میں استعمال کرتا ہوں۔یہ وہی قہوہ ہے آپ بھی پیا کریں۔مجھے خدا تعالیٰ نے جس قدر کڑواہٹوں کو برداشت کرنے کی طاقت دی ہے کم ہی لوگوں کو ملی ہوگی۔ان حالات میں ہر دُکھ جو کسی فرد یا خاندان کو پہنچا اُس کا زخم میں اپنے سینے میں بھی محسوس کرتا ہوں۔پس کئی ہزار پریشانیاں نیزے کی انی کی طرح میرے سینے میں پیوست ہیں اور میرے جسم کو بھی یہ عادت ہے۔مجھے گرمی میں خون کی شکر کے نظام میں خرابی کی وجہ سے تکلیف ہو جاتی ہے۔اس کے لئے میں کبھی کبھی نیم کے پتوں کا جو شاندہ استعمال کرتا ہوں۔ایک دفعہ میں وہی جوشاندہ پی رہا تھا کہ ہماری ایک عزیزہ اُس وقت آگئیں۔وہ سمجھیں کہ پتہ نہیں میں کیا شربت پی رہا ہوں۔تو میں نے