خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 607
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۰۷ خطبہ جمعہ ۲۱ جون ۱۹۷۴ء مستحق ہوگا جن کے مستحق وہ لوگ ہوتے رہے ہیں جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اس قسم کی تکالیف کو بشاشت کے ساتھ قبول کرتے تھے۔اسلامی تاریخ اس قسم کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام جو جوتیوں کے نیچے مسلی ہوئی نرم چیز کو بغیر دیکھے کھا جاتے تھے خدا تعالیٰ نے دنیا کی دولتیں ان کے قدموں میں ڈال دیں اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی ایک خطبہ جمعہ میں ذکر کیا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اے خدا! جو شخص تیرا ہو جائے تو اسے دو جہان بخش دیتا ہے لیکن جو تیرا ہو گیا وہ ہر دو جہان لے کر کیا کرے گا۔اس کے لئے تو کافی ہے۔غرض پہلی بات جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہی ہے کہ تم مظلومانہ زندگی کو بشاشت کے ساتھ قبول کرو تائم اللہ تعالیٰ کی بے انتہا نعمتوں کے وارث بنو ( انشاء اللہ تعالیٰ ) دوسری بات یہ ہے کہ کل کے اخبارات میں ایک خبر چھپی تھی کہ سرحد کی صوبائی اسمبلی نے متفقہ طور پر وفاقی حکومت سے یہ سفارش کی ہے کہ جماعت احمدیہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے۔اس کے متعلق میں ایک دو باتیں کہنا چاہتا ہوں۔اس سلسلہ میں پہلی بات تو میں یہ کہوں گا کہ ہمارے حقوق کی حفاظت کرنا حکومت کا اسی طرح فرض ہے جس طرح کسی دوسرے پاکستانی شہری کے حقوق کی حفاظت کرنا ان کا فرض ہے اور اس حکومت کے لئے ہم دعائیں کرتے آئے ہیں، اب بھی کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کو فر است عطا فرمائے اور ان سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جس سے دنیا کے لوگوں کی نگاہ میں ان کے لئے ذلت کے سامان پیدا ہو جا ئیں۔جہاں تک اقلیت کے سلسلہ میں علمائے ظاہر کے فتاویٰ کا تعلق ہے وہ تو ساری دنیا کے علمائے ظاہر اور ہر فرقہ سے تعلق رکھنے والے علمائے ظاہر جو ہمارے ساتھ اتفاق نہیں رکھتے وہ ہمارے خلاف کفر کے فتوے دیتے چلے آئے ہیں۔ساری دنیا کے علمائے ظاہر کے فتاوی کفر کے بعد حکومت پر یہ زور دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ حکومت احمد یہ فرقہ کے مسلمانوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے۔یہ سوچنے کی بات ہے۔میں نے بھی سوچا آپ نے بھی سوچا ہوگا اور پاکستان کی ۹۹ فیصد شریف اکثریت نے سوچا ہوگا کہ یہ کیا قصہ ہے کہ ساری دنیا کے مولویوں نے اعلان