خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 606
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۰۶ خطبہ جمعہ ۲۱ جون ۱۹۷۴ء آپ نے فرمایا مجھے تو خدا کھلاتا پلاتا رہتا ہے اس معاملہ میں تم مجھے اُسوہ نہ بناؤ بلکہ ظاہری تدابیر اور مادی دنیا کے جو قوانین ہیں ان میں مجھے اپنا اُسوہ بناؤ۔میرے کچھ ایسے مقام بھی ہیں جو میرے ساتھ خاص ہیں مثلاً خود ختم نبوت کا مقام ایک ایسا مخصوص مقام ہے جو دنیا کے کسی دوسرے انسان سے تعلق نہیں رکھتا۔اس کا تعلق صرف اس پیاری اور حسین ترین ہستی سے ہے جسے دنیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے یاد کرتی ہے۔بہر حال میں سوچتا بھی ہوں اور دوستوں کو اس طرف توجہ بھی دلاتا ہوں کہ دیکھو اگر تین سال نہیں تو کم از کم اڑھائی سال تک تو ضرور لگاتار بغیر کسی وقفہ کے اس وقت کے منکرین اور مخالفین نے یہ کوشش کی تھی کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سارے مسلمانوں کو قید کر دیا جائے یہاں تک کہ ان کو کھانے کو نہ ملے اور ان کو پینے کو نہ ملے۔ایک بزرگ صحابی نے بعد میں جب کہ ساری دنیا کے اموال مسلمانوں کے قدموں میں لا کر ڈال دیئے گئے تھے ، ایک دفعہ ذکر کیا کہ میں شعب ابی طالب میں قید کے زمانے میں رات کے اندھیرے میں کہیں جارہا تھا کہ میرے پاؤں کے نیچے ایک چیز آئی جسے میں نرم محسوس کیا۔وہ کہتے ہیں میں نیچے جھکا اور اسے اٹھا کر کھالیا مگر آج تک پتہ نہیں کہ وہ تھی کیا چیز۔گویا اس قدر بھوک کی شدت تھی۔مکی زندگی قریباً ساری ہی تکالیف کی زندگی تھی اس لئے اگر ہمارے دل میں حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار ہے اور یقینا ہے تو پھر آپ نے تو خدا کی راہ میں دس سال تک تکالیف برداشت کیں اس محبت کا یہ تقاضا ہے کہ ہم دس نہیں بلکہ دسیوں سال تک بھی اگر خدا ہمیں آزمائے تو ہم اس پیار کے نتیجہ میں دنیا پر یہ ثابت کر دیں کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی معرفت رکھتے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیار کرتے ہیں جوع (بھوک ) کی حالت ان کی وفا کو کمزور نہیں کرتی وہ اسی طرح عشق میں مست رہتے ہیں جس طرح پیٹ بھر کر کھانے والا شخص مست ہوتا ہے۔وہ مست رہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے عشق میں اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار میں۔پس ہر احمدی کو چاہیے کہ وہ مظلومانہ زندگی کو بشاشت کے ساتھ قبول کرے۔اگر وہ مظلومانہ زندگی کو بشاشت کے ساتھ قبول کرے گا تو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں وہ انہی انعامات کا