خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 596
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۹۶ خطبہ جمعہ ۱۴ /جون ۱۹۷۴ء طاقتوں کا غلط استعمال ہو اور جب انسان کی اور اس کی زندگی ” تَخَلَقُوا بِأَخْلَاقِ اللهِ“ کی مظہر نہ ہو جب انسانی خلق پر خدا تعالیٰ کے نور کی چادر نہ ہو تو پھر جب نور نہیں ہوگا تو اندھیرا یه خطره ہوگا جب خدا تعالیٰ کا پیار نہیں ہوگا تو اس کا غصہ اور قہر ہوگا۔بہر حال انسان کے لئے یہ موجود ہے یعنی جہاں اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے بڑی ترقیات کے سامان پیدا کئے ہیں وہاں یہی ترقیات کے سامان اس کے لئے یہ خطرہ بھی پیدا کر دیتے ہیں کہ مثلاً انسان کی وہ استعداد یں جو صفت ربوبیت باری تعالیٰ سے تعلق رکھتی تھیں اگر ان کی پرورش ربوبیت کے رنگ میں رنگین ہو کر نہیں کئی گئی تو گویا انسان بجائے اس کے کہ وہ اپنے رب کریم کی گود میں بیٹھ سکے تنزل کی طرف چلا گیا۔اس طرح ہر وہ طاقت جو انسان کی خیر اور بھلائی کے لئے تھی وہی اس کے لئے بشری کمزوری بن جاتی ہے اس بشری کمزوری سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ) اسلام کی عظیم اور نہایت ہی حسین شریعت اور ہدایت میں ہمارے لئے راہنمائی کے سامان مہیا کر دیئے ہیں۔ان میں سے ایک استغفار ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی جائے کہ وہ ہماری فطرت کو اپنی طاقت کا سہارا دے کیونکہ اس سہارے کے بغیر ہماری فطرت بلندیوں کی طرف حرکت نہیں کر سکتی بلکہ تنزل اور پستیوں کی طرف حرکت پیدا ہو جائے گی۔استغفار کے دو معنے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی وضاحت سے ان پر روشنی ڈالی ہے۔ایک معنی یہ ہے کہ استغفار کرنے والا اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہے کہ اے میرے رب! مجھ سے جو غلطیاں اور کوتاہیاں ہو چکیں تو انہیں معاف کر دے اور مجھے ان کی بداثرات اور بدنتائج سے محفوظ رکھ۔عام طور پر عام انسانوں کے لئے اسی معنی میں مغفرت اور غفر اور استغفار کا لفظ بولا جاتا ہے لیکن انسانوں میں وہ انسان بھی پیدا ہوئے جو اپنے مقام کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت کے نتیجہ میں معصوم بنائے گئے تھے اور ان معصومین کے سردار ہمارے محبوب آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں باوجود اس کے کہ آپ کی ہر وہ طاقت جو آپ کو بلندیوں کی طرف پرواز کرنے کے لئے دی گئی تھی تنزل کی طرف کبھی بھی مائل نہیں ہوئی ، پھر بھی قرآن کریم نے آپ کو کہا استغفار کرو۔پس استغفار کرنے کے بارہ میں قرآن کریم کی جن آیات میں یہ مضمون بیان ہوا ہے