خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 595
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۹۵ خطبہ جمعہ ۱۴ / جون ۱۹۷۴ء اختیار کے باوجود انہوں نے ایسا نہیں کیا اور میرے پیار اور میری رضا کو انہوں نے حاصل کیا۔ہم جس چیز کو عام طور پر بشری کمزوری کہتے ہیں وہ اس کے علاوہ اور کوئی کمزوری نہیں ہوتی یعنی انسان کی ہر طاقت اسے روحانی اور اخلاقی رفعتوں تک لے جا کر اللہ تعالیٰ کے پیار کے حصول کے زیادہ سے زیادہ سامان بھی پیدا کرتی ہے اور کسی وقت یہی طاقت اس کے لئے کمزوری بھی بن جاتی ہے کیونکہ جب اس طاقت کا صحیح استعمال نہیں ہوگا یا جب اس کا با موقع استعمال نہیں ہوگا یا جب عمل صالح نہیں ہوگا یا جب ان طاقتوں کو صیقل نہیں کیا جائے گا یعنی ان کو ہر مشقت اٹھا کر ہر ابتلا اور ہر ایمان میں سے گزار کر اس بات کی تربیت نہیں دی جائے گی کہ وہ صحیح راہ یعنی صراط مستقیم پر چلیں تو پھر انسان تنزل کی طرف گرے گا۔پس وہ ساری طاقتیں جو انسان کو دی گئی ہیں جن کو ہم روحانی طاقتیں کہتے ہیں۔یہ طاقتیں مجموعی طور پر اللہ تعالیٰ کی ان تمام صفات سے تعلق رکھتی ہیں جن کا ذکر قرآن کریم نے ہمارے سامنے کیا ہے اور جن کا تعلق انسان سے ہے یعنی ہماری کچھ طاقتیں اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت سے تعلق رکھتی ہیں کچھ طاقتیں صفت رحمانیت سے تعلق رکھتی ہیں ہماری کچھ استعدادیں صفت رحیمیت سے تعلق رکھتی ہیں ، ہماری کچھ قابلیتیں مالکیت یوم الدین سے تعلق رکھتی ہیں۔کچھ اللہ تعالیٰ کی صفت مغفرت سے تعلق رکھتی ہیں اور کچھ اللہ تعالیٰ کی حی وقیوم ہونے کی صفات سے تعلق رکھتی ہیں۔انسان اپنے محدود دائرہ استعداد میں ( ہر انسان کے دائرہ استعداد میں فرق ہوتا ہے ) اپنی ساری طاقتوں کے ذریعہ جو اسے اپنے پر خدا تعالیٰ کے اخلاق اور صفات کا رنگ چڑھانے کے لئے دی گئی تھیں وہ رنگ جب انسان اپنے اوپر نہیں چڑھا تا اور شیطان کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور شیطانی اخلاق اپنے اندر پیدا کر لیتا ہے تو وہی طاقت جو اس کے لئے رفعت کا باعث تھی اس کے تنزل کا ، اس کی محرومی کا اور خدا تعالیٰ سے اس کی دوری اور بعد کا باعث بن جاتی ہے۔غرض وہ تمام طاقتیں جن کے متعلق ہم کہتے ہیں کہ وہ صرف انسان کو دی گئی ہیں دوسری مخلوق کو نہیں دی گئیں اور جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے پیار کو حاصل کرنے والی ہیں ساری طاقتیں خدا تعالیٰ کی کسی نہ کسی صفت سے تعلق رکھتی ہیں جس کا ذکر قرآن کریم میں کیا گیا ہے۔جب ان