خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 557 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 557

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۵۷ خطبہ جمعہ ۱۰ رمئی ۱۹۷۴ء نے بتایا ہے کہ بعض شہروں سے جو دوست رقوم لے کر آئے ہیں انہوں نے بتایا کہ اتنا جوش اور بشاشت اور اخلاص جماعت میں بڑھ رہا ہے کہ وہ کمزور مگر مخلص احمدی جو چندوں کی طرف توجہ نہیں کرتے تھے اگر سارے سال کا چندہ بھی ان کے ذمہ تھا تو بشاشت سے انہوں نے اس عرصہ میں وہ پورا کر دیا۔انسان کمزور ہے اور اُسے ان طاقتوں کے صحیح استعمال کا بھی شعور نہیں جو اللہ تعالیٰ نے اسے دی ہیں سوائے اس کے کہ خود اللہ تعالیٰ آسمان سے فرشتوں کے نزول کے ساتھ اس کی رہبری کرے۔پس جب آپ کے سامنے اس قسم کی قربانیوں کی اپنے ہی متعلق مثالیں آئیں تو آپ کے دل میں کبر اور غرور اور فخر نہیں پیدا ہونا چاہیے بلکہ آپ کے سر اور بھی جھک جانے چاہئیں۔اللہ تعالیٰ کے حضور اور بھی عاجزی کے ساتھ آپ کو دعائیں کرتے رہنا چاہیے کہ وہ غفور اور پردہ پوش ہے۔اگر وہ اپنی رحمت سے پردہ پوشی نہ کرے تو ہماری کمزوریاں تو دیمک کی طرح ہمیں کھا جائیں۔وہ پردہ پوشی کرتا ہے اور پھر اس پردہ کے اندر ہی ہمارے لئے پہلے سے بڑھ کر اعمال صالحہ بجا لانے کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔ہم بھی سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنے زور سے ایسا نہیں کیا اور جو ہمیں پہچانتا نہیں اور صرف دنیا وی نگاہ رکھتا ہے اور دینی بینائی اُسے حاصل نہیں اُس کے لئے بڑی حیرانی کی بات ہوتی ہے کہ یہ کیا ہو گیا لیکن جماعت کے لئے یہ حیرانی کی بات نہیں جماعت کے لئے عاجزی اور انکساری کا لمحہ ہے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ کتنا رحم کرتا ہے کہ کس طرح وہ بشاشت کے ساتھ ان فانی چیزوں کو پیش کرنے کی ہمیں توفیق دیتا ہے اس وعدہ کے ساتھ جسے ہم علی وجہ البصیرت درست اور صحیح سمجھتے ہیں کہ فانی اشیاء دے کر لافانی رزق ہمیں ملے گا جس کے متعلق آیا ہے مَالَهُ مِنْ نَّفَادِ اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ وہ ملے گا۔ہم یقین رکھتے ہیں کہ جن جنتوں کا اس دنیا میں اس نے وعدہ دیا وہ اپنے وعدوں کو پورا کرے گا اور جن جنتوں کا اس دنیا سے گذر جانے کے بعد انسان کو وعدہ دیا گیا ہے وہ وعدے بھی اسی کے فضل سے ہمارے حق میں پورے ہوں گے۔پس یہ اللہ تعالیٰ سے پیار کی علامت ہے۔یہ تمہاری طاقت کا مظاہرہ نہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کی آنکھ سے تمہیں دیکھا اور اس کی راہ میں وہ چیز پیش کرنے کی تم نے توفیق پائی کہ جس کے