خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 533 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 533

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۳۳ خطبه جمعه ۱۲ ۱٫ پریل ۱۹۷۴ء چلے جائیں گے لیکن اگر ہمیں اُخروی زندگی کی جنت مل جائے جو نہ ختم ہونے والی جنت ہے اور اس کے لئے ہم نے یہاں کام کیا ہو اور اللہ تعالیٰ کا فضل ہمارے شامل حال ہو اور اُس کی مغفرت کی طاقتیں ہماری خطائیں اور کمزوریوں کو دُور کر کے ہمیں اپنی جنت میں لے جائیں تو اُس سے اچھی کوئی چیز نہیں وہ بھی ملے گی۔لیکن رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً پہلے کہا گیا اور وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً بعد میں کہا گیا اس لئے کہ دنیا کی حسنات پر ہم نے اُخروی زندگی کے محلات کی بنیادیں رکھنی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا کرے اور جن کو میں نے منتظم بنایا ہے اُن کو اللہ تعالیٰ سمجھ اور توفیق دے کہ اگلا منصوبہ مزید بجلی کے کنوئیں اور درخت لگانے کا وہ بنا سکیں۔یہ ایک نئی چیز ہے اور سمجھانے والی بات ہے۔ہر ایک کو تو علم نہیں ہوتا جو لوگ گھروں میں درخت لگا ئیں گے اور دوسال کے بعد جب ٹرے بھری ہوئی اُن کے سامنے انجیروں کی ہوگی تو وہ بڑے خوش ہوں گے کہ خدا کی شان ہے یہ حصہ محن کا ہمارا یونہی پڑا ہوا تھا اب اتنی انجیر یں مل رہی ہیں اور یہاں ربوہ میں تو درخت کا چناؤ اور انتخاب اچھا ہو تو بہت اچھا پھل دیتا ہے۔میں نے کالج کی کوٹھی میں دو درخت لگائے تھے اتنے اچھے انجیر کہیں میں نے دنیا میں نہیں کھائے جتنے وہاں ہوئے۔باہر سے ہمارے مہمان پروفیسر وغیرہ آتے تھے اور حیران ہوتے تھے اتنا اچھا اور لذیذ اور خوشبودار اور شیر میں انجیر بھی دنیا میں پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ پر اپنا رحم کرنا چاہتا ہے آپ اُس کی رحمت سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں اور منتظمین نئے کنوئیں اور درخت لگانے کے متعلق سکیم اور منصوبہ بنا کر کچھ بہار میں اور کچھ خزاں میں (وہ بھی درختوں کے لگانے کا ایک موسم ہے) درخت لگا ئیں اور یہاں تو جو ریل میں آئے اُسے بھی اور جو بسوں اور موٹروں پر آئے اُسے بھی اور جو ہوائی جہاز سے گذرے اُسے بھی نظر آئے کہ یہاں ایک باغ لگا ہوا ہے جس میں اس دنیا کی جنت کے لوگ بس رہے ہیں اور دنیا جو مرضی کرتی رہے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور فضلوں کو آپ حاصل کرنے والے ہوں خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔(روز نامه الفضل ربوه ۱۵ رمئی ۱۹۷۴ء صفحه ۲ تا ۶ )