خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 532
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۳۲ خطبه جمعه ۱۲ ۱٫ پریل ۱۹۷۴ء بڑی گاچی لگائیں گے تو اگلے سال پھل دے دے گا۔میں نے احمد نگر میں اپنی زمین پر شہتوت کا پودا لگایا ہے لیکن وہ اپنے وقت پر لگا یا تھا یعنی جب شہتوت کی پت جھڑ ہوتی ہے یعنی فروری کے آخر اور مارچ کے شروع میں اُس کے پتے بڑے اچھے نکلے ہیں اللہ نے خیر کی اور وہ آفات سماوی سے بچا رہا اور ہماری کسی غلطی اور غفلت کے نتیجہ میں ہمیں سزا دینے کے لئے اس پودہ کو اللہ تعالیٰ نے نہ مارا تو اگلے سال اس کا پھل آجائے گا یعنی ڈیڑھ سال بعد۔پس آپ اپنے چھوٹے سے محن میں بھی پھلدار پودے لگا سکتے ہیں۔لگائیں اور پھل کھائیں۔اگر صحن بڑا ہے اور دس دس فٹ کے فاصلہ پرانجیر اور شہتوت لگادیں تو تین چار درخت لگا سکتے ہیں۔جس کا مطلب ہے کہ اگر ۱۵ فٹ مربع جگہ ہے تو اس میں آسانی سے دس دس فٹ کے فاصلہ پر ۴ درخت لگ سکتے ہیں کچھ دیوار کے قریب آجا ئیں گے۔دیوار میں اگر اپنے والی ہیں تو ادھر آپ جھاڑیاں کھڑی کر دیں۔مری ہوئی جھاڑیاں بھی دیواروں کی تپش کو روکتی ہیں بہر حال مشورہ کریں اور لگائیں اور میں یہ چاہتا ہوں کہ ہر گھر اپنے صحن کا پھل دو سال کے اندر اندر کھا رہا ہو۔انشاء اللہ کوشش تو کریں دیکھیں کتنا مزہ آئے گا۔اللہ تعالیٰ کے حسن کو اُس کے قدرت کے جلوؤں میں آپ دیکھیں گے گند کے اندر پلا ہوا درخت اتنا ستھرا پھل آپ کو دے رہا ہو گا۔میں نے کلر اور شورہ والی زمین میں پہلے ہوئے درخت دیکھے ہیں کہ اتنے میٹھے اور شیریں پھل دیتے ہیں کہ انسان حیران ہو جاتا ہے کہ جس زمین سے غذا اس درخت نے لی تھی وہ تو کر والی اور کھاری تھی اور جو پھل ہمیں ملا ہے وہ میٹھا ہے۔اگر کسی کا بالکل ہی چھوٹا صحن ہے اور وہ زیادہ درخت نہیں لگا سکتا تو فالسے کے پانچ سات درخت لگا لے اسے فالسہ ملے گا۔خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ تمہارے لئے ہر چیز پیدا کی ہے جس کا مطلب میں یہ سمجھتا ہوں کہ تمہارے لئے چیز پیدا ہوئی ہے اس میں سے زیادہ سے زیادہ تم فائدہ اُٹھاؤ مگر جائز طریقوں پر خدا تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے دعائیں کرتے ہوئے اُس کی قدرت کے نشان ان درختوں میں اور ان کی پرورش میں دیکھتے ہوئے اس دنیا میں بھی حسنات حاصل کرو۔اور پھر دوسری زندگی جو اصل زندگی ہے۔یہ زندگی تو کوئی چیز ہی نہیں ہے۔جس طرح ایک سیکنڈ میں ایک بلبلا پانی کے او پر بنتا ہے اور مٹ جاتا ہے اسی طرح یہ زندگی ہے۔ہم آئے ہیں اور