خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 497 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 497

خطبات ناصر جلد پنجم ۴۹۷ خطبہ جمعہ ۱۵ / مارچ ۱۹۷۴ء نہیں رکھتے وہ دھوکہ دہی سے مومن کو اُس کے مقام معرفت اور مقام یقین سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔اُن کے دھوکے میں مومن نہیں آیا کرتا۔مومن کو تو یہ حکم ہے ( اور اُس کی زندگی اس حکم کی عملی مثال ہے ) کہ فَاصْبِرُ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا ہے وہ پورا ہو گا۔اس لئے استقلال کے ساتھ اور صبر کے ساتھ انتہائی قربانیاں دیتے ہوئے ، مالی بھی اور جانی بھی اور دوسری ہر قسم کی ، آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاؤ کیونکہ تمہاری ہی جھولیوں میں خدا تعالیٰ کے ان وعدوں کے پورا ہونے سے حاصل ہونے والی برکتوں کا پھل گرنے والا اور تمہیں ہی ان سے فائدہ پہنچنے والا ہے۔مخالف اپنی مخالفت میں بڑھتا ہے اور مومن اپنے یقین میں ترقی کرتا ہے۔مخالف اپنے منصوبوں کو تیز کرتا ہے اور مومن اپنے سر کو اور بھی جھکا کر خدا تعالیٰ کی راہ میں وہ اعمال بجالاتا ہے جن کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا پیارا سے حاصل ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حفاظت اُسے ملتی اور فرشتوں کی فوجیں آسمان سے نازل ہوتیں اور اُس کا ہاتھ بٹاتیں اور کامیابی کی منزل مقصود تک پہنچا دیتی ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ کے حضور متضرعا نہ جھک کر یہ درخواست کرتے رہنا چاہیے کہ ہم کمزور ہیں۔ہم کمزور سہی اے ہمارے رب !لیکن ہم نے تیرے دامن کو پکڑا ہے اور تیرے اندر کوئی کمزوری نہیں۔اس لئے جب ہم تیری پناہ میں آگئے تو ہمیں ڈرکس بات کا ؟ سوائے اس ڈر کے کہ کہیں اپنی کسی غفلت اور کوتاہی اور کمزوری اور بے ایمانی کے نتیجہ میں تو ہمیں جھٹک کر پڑے پھینک دے اور تیری حفاظت ہمارے شامل حال نہ رہے، جب تک اللہ تعالیٰ کی حفاظت انسان کے ساتھ ہے جب تک اسے اُس کی نصرت ملتی رہتی ہے جب تک اللہ تعالیٰ کے پیار کا سایہ اُس کے سر پر ہوتا ہے جب تک اللہ تعالیٰ کے فرشتے اُس کی مدد کے لئے آسمانوں سے اُترتے رہتے ہیں اُس وقت تک مومن جو خدا کی طرف خود کو منسوب کرتا اور اُس کے حضور قربانیاں پیش کرنے والا ہے صبر اور استقلال کے ساتھ اُس مقصد کی طرف ( جو خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے جس کے متعلق کہا گیا ہے اِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ ) حرکت کرتا ہے اور آخر کامیاب ہوتا ہے اور اس دنیا میں بھی وہ پاتا ہے جو خدا سے دور رہنے والے کبھی پانہیں سکتے اور عقبیٰ میں بھی وہ اُس کو ملے گا جس تک خود مومن کا بھی تخیل اس دنیا میں نہیں پہنچ سکتا۔کہا گیا وہاں وہ ہو گا جو نہ کسی آنکھ نے