خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 472
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۷۲ خطبه جمعه ۱۵ / فروری ۱۹۷۴ء قربانیاں دینے کے لئے تیار ہو جاؤ۔اب جماعت احمدیہ کی طرف سے غلبہ اسلام کی اس عظیم اور خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیاب ہونے والی جد و جہد کی مخالفت ایک نئی شکل میں اور ایک اور رنگ میں شروع ہوئی ہے اور وہ بین الاقوامی متحدہ کوشش کی شکل میں ہے۔پہلے ہر ایک ملک اپنے ملک میں مخالفت کر رہا تھا۔یہاں بھی مخالفت تھی اور زیادہ سے زیادہ یہ ہوا کہ بعض لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں آپ کے خلاف مکہ اور مدینہ سے کفر کے فتوے حاصل کر لئے لیکن اس کفر کے فتوؤں کی مہم کے نتیجہ میں جماعت میں کمزوری پیدا نہیں ہوئی جماعت نے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو جس رنگ میں حاصل کیا ہے اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی بہر حال ملک ملک میں مخالفت تھی یہ کہ ممالک اکٹھے ہو کر جماعت کی متحدہ مخالفت کریں۔اس رنگ میں جماعت کو مخالفت کا مقابلہ نہیں کرنا پڑا۔میں نے پہلے بھی کئی بار بتایا ہے اسلام کو غالب کرنا کوئی معمولی کام نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا منصوبہ ہے یہ اتنا بڑا منصوبہ ہے (جو آسمان سے اُترا اور انسان کے کمزور ہاتھوں میں دیا گیا ہے ) کہ اگر خدا تعالیٰ کی رحمتوں اس کی طاقتوں اور قدرتوں اور اس کے غالب اور قہار ہونے پر تو گل نہ ہو تو اس کا تخیل و تصور ہی انسان کو پاگل بنادیتا ہے لیکن جہاں اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غالب کرنے کا اتنا عظیم منصوبہ مہدی معہود کے ذریعہ جماعتِ احمدیہ کے ہاتھ میں دیا وہاں ہر احمدی کے دل میں اللہ تعالیٰ نے اس قدر تو گل پیدا کیا کہ وہ تمام عقلی پہلوؤں کو اپنے پاؤں تلے روند تے اور خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھا۔ظاہر ہے کہ پہلے صوبے کی مخالفت تھی پھر ملک کی مخالفت تھی پھر ملک ملک کی مخالفت تھی ، مخالفت میں ترقی ہوتی چلی گئی۔اب ممالک کے اکٹھے ہو کر مقابلے میں آجانے کا جو منصوبہ ہے اس سے بڑھ کر اس کرہ ارض پر اور کوئی منصوبہ تصویر میں بھی نہیں لایا جا سکتا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم جو خدا تعالیٰ پر ایمان رکھتے اور اسی پر اپنا تو گل رکھتے ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ غلبہ اسلام کی آخری گھڑی قریب آگئی ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ۔کیونکہ جب منصوبہ اپنی انتہا کو پہنچا تو ہمارے ہر دل نے یہ کہا ع نہاں ہم ہو گئے یارِ نہاں میں