خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 471
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۷۱ خطبه جمعه ۱۵ / فروری ۱۹۷۴ء پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتیں بڑھنے لگیں اور بعض ممالک میں جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہماری جماعتیں تعداد کے لحاظ سے وہاں کی آبادی میں دس فیصد سے زیادہ ہیں اور مالی قربانیوں کا یہ حال ہے کہ بعض چھوٹے چھوٹے ملک کی جماعتوں کا بجٹ تیس لاکھ سے زیادہ ہوتا ہے۔اُن کی آبادی ہمارے مقابلہ میں دس فیصد ہے لیکن بجٹ ہمارے مقابلہ میں پچاس فی صد ہے۔غرض اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی قربانی دینے والی جماعتیں قائم ہوگئیں۔جب یہ صورت پیدا ہوئی تو پھر ہر اس ملک میں جہاں احمدیت کو ترقی ہو رہی تھی ، مخالفت شروع ہوگئی تاہم مخالفت سے گھبراہٹ کبھی پیدا نہ ہوئی کیونکہ مخالفت کا پوری جدو جہد کے ساتھ مقابلہ کرنا تو ہماری زندگی کا ایک ضروری حصہ ہے بہر حال جب ہماری اجتماعی زندگی میں توانائی پیدا ہوئی تو مخالفت میں زور پیدا ہوا اور ہونا بھی چاہیے تھا۔گویا ہر وہ ملک جس میں جماعتیں قائم ہوئیں وہ جماعتی کوششوں کے خلاف کھڑا ہو گیا۔مثلاً افریقہ کے بہت سے ممالک ہیں جہاں ہماری جماعتیں قائم ہوئیں اور انہوں نے ترقی کی اور انہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مقبولیت حاصل ہوئی تو وہاں کے لوگوں نے (غیر مسلموں نے بھی اور ان مسلمانوں نے بھی جنہوں نے ابھی تک حقیقت کو نہیں پایا ) مخالفت شروع کر دی اور جوں جوں جماعت بڑھتی گئی ، اس مخالفت میں شدت پیدا ہوتی چلی گئی لیکن مخالفانہ عنصر اسی ملک کے ساتھ تعلق رکھتا تھا جس میں جماعتیں قائم تھیں یعنی ہر ملک میں جماعت احمدیہ کی مخالفت مقامی نوعیت کی حامل تھی اور گذشتہ جلسہ سالانہ تک یہی حالت رہی۔جلسہ سالانہ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے میرے ذہن میں صد سالہ احمد یہ جوبلی کا منصوبہ ڈالا اور اس کے متعلق بڑے زور کے ساتھ یہ تحریک ہوئی کہ جلسہ سالانہ پر اس کا اعلان کر دیا جائے کہ اگلے پندرہ سولہ سال بڑے اہم ہیں۔بڑے سخت ہیں بڑی قربانیوں کے سال ہیں خود کو سنبھالنے کے سال ہیں نئی نسلوں کی از سرئو تربیت کرنے کے سال ہیں۔چنانچہ جلسہ سالانہ پر جب صد سالہ احمد یہ جوبلی منصوبہ کا اعلان کیا گیا تو اس کے بعد بعض ایسی اطلاعات موصول ہوئیں کہ جن کو پا کر دل میں اللہ تعالیٰ کی حمد کے چشمے پھوٹے۔اللہ تعالیٰ عَلَامُ الْغُيُوبِ ہے ہمیں علم نہیں تھا لیکن اس کو علم تھا۔اس نے جماعت کو اس طرف متوجہ کر دیا کہ