خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 29
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۹ خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۷۳ء جب درخت بڑے ہو جاتے ہیں جب انسان کے اس زمانہ پر خود درخت کا سبزہ اور اس کی خوبصورتی گواہی دے کہ گویا انسان نے خدا تعالیٰ کے قانون کو سمجھا اور بوقت ضرورت اس کا استعمال کیا اور اس استعمال میں اُس نے محنت کی اور خدا تعالیٰ سے دعا کی اور اس طرح اس کے فضل کو حاصل کیا یہ تو خوشی کی بات ہے لیکن یہ تو خوشی کی بات نہیں کہ ۲۵ سال تک قوم ہر سال کروڑوں درخت لگائے اور ہر سال کروڑوں درختوں کو ضائع بھی کر دے۔یہ تو بڑی شرم کی بات ہے یہ تو بڑی نالائقی کی بات ہے۔اس سے تو گردنیں جھک جانی چاہئیں گردنیں اکڑنی نہیں چاہئیں۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری قوم کو بھی بہترین شجر کاری اور ان کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کو بھی جو میرے پہلے مخاطب ہیں اس کام کی کماحقہ تو فیق عطا ہو کیونکہ آپ کی ذمہ داری دوسروں سے بہر حال زیادہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے آج روحانی قیادت آپ کے ہاتھ میں دی ہے اس لئے ہر احمدی نے زندگی کے ہر شعبہ میں دوسروں سے آگے نکلنا ہے۔یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جس سے عہدہ برآ ہونے کے لئے ہر احمدی دوست کو انتہائی کوشش کرنی چاہیے۔جہاں تک درختوں کے لئے پانی کا تعلق ہے اس کی ابتدا میں نے اس طرح کی کہ وہ ایسے محلے جن میں اس وقت پانی بالکل نہیں یا بہت کم ہے۔پینے کے لئے بھی دقت ہے وہاں اہل محلہ اور مرکز کے باہمی مشورہ اور تعاون سے بجلی کے کنویں لگا دیئے جائیں گے۔اس طرح پانی کی ضرورت پوری ہو جائے گی۔میں نے بعد میں یہ بھی اعلان کیا تھا کہ دوسرے محلے میں بھی پانی کی ضرورت ہو تو وہ بھی اس قسم کے پروگرام میں شامل ہو جائے۔مجھے رپورٹ ملی ہے کہ ایک اور محلے نے بھی اس طرف توجہ کی ہے تاہم ابھی تک کوئی ٹھوس کام سامنے نہیں آیا یوں لگتا ہے یہ محلے خواب خرگوش میں پڑے ہوئے ہیں۔ترقی کے لئے کچھوے کی طرح کی آہستہ آہستہ حرکت تو کوئی حرکت نہیں ہے حالانکہ انسانی صحت کے لئے پانی بہت ضروری ہے۔نمکین پانی پینے کی کچھ عادت بھی پڑ گئی ہے۔اس لئے میٹھے پانی کے انتظام کے لئے فوری توجہ نہیں دی جا رہی۔علاوہ پینے کی ضرورت کے اگر ہم نے درختوں کے لئے پانی کا انتظام کرنا ہے تو پھر چونکہ فروری کے آخر سے درخت لگانے کا موسم شروع ہو رہا ہے اس سے پہلے یہ کنوئیں چالو ہونے چاہئیں یہ تو نہیں ہوسکتا کہ مثلاً