خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 367
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۶۷ خطبه جمعه ۲۳ نومبر ۱۹۷۳ء دے دیں۔میں نے دیکھا ہے کہ بڑے بڑے امیر لوگ بھی جن کے ساتھ بچے ہوتے ہیں اس قسم کی رہائش گاہوں کو بڑی خوشی سے قبول کرتے اور ان میں پرالی بچھا کر آرام سے رہ لیتے ہیں اور مرکزی نظام اور اہل ربوہ کے ممنون ہوتے ہیں لیکن اگر ایسے دوستوں کے لئے ہم یہ انتظام نہ کر سکے تو مجھے اندیشہ ہے کہ ان میں سے بعض دوست جن کی مجبوریاں واقعی اس قسم کی ہوتی ہیں کہ اگر یہاں ان کے لئے ہم علیحدہ انتظام نہ کر سکیں تو شاید انہیں مجبوراً اور دکھی دل کے ساتھ جلسہ چھوڑنا پڑے۔چند دن ہوئے افسر صاحب جلسہ سالانہ نے جب مجھ سے یہ کہا کہ میں اہل ربوہ سے اپیل کروں کہ وہ اپنے اپنے مکانوں کا کوئی نہ کوئی کمرہ نظام جلسہ کو دیں تو ایک خیال میرے دل میں یہ پیدا ہوا اور جس سے مجھے گھبراہٹ بھی ہوئی اور پریشانی بھی اٹھانی پڑی اور کچھ دکھ بھی اٹھانا پڑا کہ جماعت احمدیہ کے کچھ خاندان ایسے ہیں جن کی اہلِ ربوہ سے عزیز داری نہیں یا جن کی ربوہ کے مکینوں سے دوستی نہیں ، ایسا نہ ہو کہ ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہو جائے کہ ربوہ کے مکین اپنے عزیزوں، رشتہ داروں اور دوستوں کو ان پر ترجیح دیتے ہیں اور ان کے لئے کمرے خالی نہیں کرتے حالانکہ وہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمان بن کر جاتے ہیں۔پس اس قسم کی کیفیت کا پیدا ہونا اور اس قسم کے حالات کا سامنے آنا ہمارے لئے پریشانی کا باعث بھی ہے اور دکھ کا باعث بھی ہے اس لئے میں دوستوں سے اپیل کروں گا اور انہیں بڑے زور سے یہ نصیحت کروں گا کہ اتنے بڑے شہر میں ایسے دوستوں کے لئے بھی رہائش کا کوئی نہ کوئی انتظام ضرور ہونا چاہیے جن کی ربوہ میں بظاہر کسی سے رشتہ داری نہیں ویسے تو روحانی لحاظ سے ہم سب احمدیت کی رشتہ داری میں منسلک ہیں۔جہاں تک خیموں کا تعلق ہے یہ انتظام بھی ہونا چاہیے پہلے پہل تو ہم سب یہاں خیمے لگا کر ٹھہر تے رہے ہیں۔میں نے خود جلسہ سالانہ کے دنوں میں خیمہ میں وقت گزارا ہے کیونکہ اس وقت تک ربوہ میں ہمارے مکانوں میں کوئی جگہ ہی نہیں تھی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنے اور اپنے خاندان کے لئے شروع میں جو کچے مکان بنوائے تھے وہ بھی کافی نہیں تھے۔اپنے