خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 353 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 353

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۵۳ خطبہ جمعہ ۹ نومبر ۱۹۷۳ء ނ بنیادی طور پر اسلام کے راستہ میں روک تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی تقدیران روکوں کو دور کرے گی۔چنانچہ اب بہت جگہ آپ کو عجیب نظارہ نظر آئے گا۔یا ما حول آپ دیکھیں گے کہ کیتھولک سے اگر آپ بات کریں تو وہ کہتے ہیں ہم تو خدائے واحد کو ماننے والے ہیں۔اور ایک سے زائد خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔تمہارا سارا ماضی تثلیث اور اُس کی حمایت کے لئے تحریر و تقریر سے بھرا پڑا ہے۔تمہاری آواز میں فضا میں ابھی تک گونج رہی ہیں۔آج تم انکار کرتے ہو؟ یہ تبدیلی اس عرصہ میں ہوئی ہے جس کے متعلق پیشگوئی کی گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے فرشتوں کو نازل کر کے حالات کو بدلے گا۔کفارہ کے مسئلہ کا نام آج تمسخر کے لئے تو لیا جاسکتا ہے۔وہ خود کہتے ہیں کہ یہ غلط ہے اور نا معلوم کن لوگوں نے کس خیال کے ماتحت ایسا مسئلہ گھڑا تھا۔ہم تو اسے نہیں مانتے۔اور جہاں تک مسیح علیہ السلام کی محبت کا سوال ہے وہ تو دلوں۔اس طرح مٹی کہ ہمارے لئے دُکھ کا باعث بن گئی۔اس دورہ میں ایک جگہ میں نے کھل کر (اور ویسے عام طور پر باتوں باتوں میں ) اس کا ذکر کیا اور پریس کانفرنس میں مجھے کہنا پڑا میں نے کہا دیکھو ہم مسیح علیہ السلام کو خدا کا بیٹا یا خدا نہیں مانتے لیکن ہم مسیح علیہ السلام کو خدا کا ایک برگزیدہ رسول مانتے ہیں۔ان کی رسالت پر جیسا کہ باقی تمام انبیاء کی رسالت پر ایک مسلمان کا ایمان لانا ضروری ہے ہم ایمان لاتے ہیں لیکن ہم حیران ہیں کہ تم جو بڑی شدت کے ساتھ اور غلو کے ساتھ اُن کے پیار کا دعویٰ کرتے ہو۔تمہارے پیار کا یہ نتیجہ ہے کہ ایک پشپ صاحب نے چرچ کے اندر کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا کہ ساری عمر کی تحقیق جو میں نے حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی کے متعلق کی اُس کا نتیجہ میں یہ نکالتا ہوں کہ حضرت مسیح بدمعاش تھے اور لونڈے باز تھے۔میں نے کہا یہ تمہاری محبت کا تقاضا ہے۔سو وہ غلو تو ٹوٹ چکا ہم نے نہیں تو ڑا نہ ہم اس حد تک توڑ سکتے تھے کیونکہ ہم تو مسیح علیہ السلام کو خدا کا ایک برگزیدہ نبی مانتے ہیں لیکن ان کے دلوں کو جھنجوڑا گیا اور وہ صداقت پر قائم رہنے کی بجائے چھلانگ لگا کر دوسری طرف چلے گئے۔اور پہلے ایک انتہا پر تھے اب دوسری انتہاء پر پہنچ گئے۔صراط مستقیم نہ پہلے ان کے پاس تھا نہ بعد میں رہا۔لیکن شکل بدل گئی اور یہ ہمیں پہلے سے بتایا گیا تھا۔پس یہ متوازی حرکتیں تھیں۔ایک جماعت احمدیہ کے