خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 329
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۲۹ خطبہ جمعہ ۲ نومبر ۱۹۷۳ء گروہ مطہرین نے زمانے کی حاجتوں اور ضرورتوں کے مطابق اللہ سے قرآن کی تفسیر سیکھی فرمائی۔خطبه جمعه فرموده ۲ نومبر ۱۹۷۳ء بمقام مسجد اقصی۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے مندرجہ ذیل آیہ کریمہ کی تلاوت كُنتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ b وَتُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَ لَوْ أَمَنَ اَهْلُ الْكِتَب لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَاكْثَرُهُمُ الْفَسِقُونَ۔(ال عمران : ۱۱۱) پھر فرمایا:۔گذشتہ خطبہ میں میں نے کے متعلق دو اصولی باتوں کا ذکر کیا تھا ایک پر نسبتا تفصیل سے روشنی ڈالی تھی اور دوسری بات کا صرف خا کہ بیان کر دیا تھا۔میں نے بتایا تھا کہ ”خَيْرَ أُمَّةٍ “ اور أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ “ میں دو بنیادی باتیں اُمت محمدیہ کے متعلق بتائی گئی ہیں۔خیر امت کی صفات کا ذکر قرآن عظیم اور ارشادات نبوی میں ہمیں ملتا ہے۔کبھی لفظ خیر کو استعمال کر کے اور کبھی معنوی ذکر سے اس حقیقت کو بیان کیا جاتا ہے۔دو بنیادی صفات جن کا ذکر قرآن و حدیث میں ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ اُمت مسلمہ