خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 287
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۸۷ خطبه جمعه ۱٫۵ کتوبر ۱۹۷۳ء ان قوموں پر بھی ہے جو بڑی امیر ہیں ) کہ آپ کی جماعت کا حکومت پاکستان سے کیا تعلق ہے۔یہ سوال ایسا تھا کہ میں نے سمجھا کہ اس کے پیچھے ضرور کوئی بات ہے۔میں نے جواب دیا کہ ہر اچھے شہری کا ایک اچھی حکومت سے جیسا تعلق ہونا چاہیے ویسا ہمارا اپنی حکومت سے تعلق ہے تو پھر اس کے دل میں جو چھپی ہوئی بات تھی وہ باہر آگئی۔اس نے سوچا کہ اُنہوں نے ایک اصولی جواب مجھے دے دیا ہے۔جو بات میں چاہتا تھا وہ تو معلوم نہیں ہوئی۔چنانچہ پھر وہ مجھے کہنے لگا کہ کیا حکومت آپ کو اپنے کاموں کے چلانے کے لئے روپیہ دیتی ہے۔اب دیکھو جماعت احمد یہ ایک غریب سی جماعت ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کے نتیجہ میں تبلیغ اسلام کا کام کر رہی ہے مگر لوگوں کے ذہن میں اس سوال کا پیدا ہونا کہ جب تک حکومت ان کو مالی امداد نہ دے اس وقت تک جماعت اس قسم کا کام نہیں کر سکتی۔یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے ،سونے چاندی اور ہیرے جواہرات کے خزانوں سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں۔خیر میں مسکرایا اور کہا کہ ہمیں حکومت کوئی پیسے نہیں دیتی اور نہ ہمیں اس کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایک فیدائی جماعت اسلام کی راہ میں قربانیاں دینے والی پیدا کی ہے جس کا ایک حصہ اپنے اموال کا ۱/۱۰ اور کچھ اس سے بھی زیادہ دینے والے ہیں۔اور جماعت کا ایک حصہ ۱/۶ دے دیتا ہے۔اور اس کے علاوہ جب ہمیں ضرورت پڑتی ہے اور ہم اعلان کرتے ہیں خاص منصوبوں کے لئے تو جماعت ان کے لئے مالی قربانی دیتی چلی جاتی ہے۔پھر میں نے اس کو غالباً کوئی مثال دی اور نصرت جہاں سکیم کی مثال دی ہوگی کہ اس طرح ہمیں ضرورت پڑی اور اس طرح جماعت نے قربانیاں دیں۔پس یہ رُعب ہے جس کا اثر غیروں پر بھی ہے مگر یہ اس پیسے کا رعب نہیں جس سے آپ کے خزانے خالی ہیں بلکہ یہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت اور اس کے پیار کا رعب ہے جو محض اللہ تعالیٰ کی رحمت نے آپ کے لئے مہیا کیا ہوا ہے اور جس سے آپ کے خزانے بھرے ہوئے ہیں فرداً بھی اور اجتماعی طور پر بھی۔مگر یہ حقیقت عقل سے کام لینے اور سوچنے پر ہی معلوم ہوسکتی ہے۔پس اس لحاظ سے بھی دوستوں کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بڑے شکر گزار بندے بن کر زندگی کے دن گزار دیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا جماعت پر بہت بڑا فضل ہے اور سوچنے کا مقام ہے کہ کس طرح وہ جو