خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 286
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۸۶ خطبه جمعه ۱٫۵ کتوبر ۱۹۷۳ء ایک موجود ہے۔میرے علم میں نہیں کہ یہاں کوئی دوسرا یا تیسرا آپریشن تھیٹر بھی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ ہمارے اموال میں برکت ڈالتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے جو دروازے ہیں یہ تو بند نہیں ہوں گے لیکن آپ نے اپنے لئے الہی رحمتوں کے سامان مالی قربانیوں کے نتیجہ میں جو پیدا کرنے ہیں اس کا دروازہ نصرت جہاں کے لحاظ سے ۲۰ / دسمبر کے بعد آپ پر بند ہو جائے گا۔اس کے بعد اس مد میں کوئی رقم وصول نہیں کی جائے گی۔باقی رہا اللہ تعالیٰ کا فضل تو وہ تو جماعت پر بے حساب نازل ہو رہا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت محمدیہ کو یہ بشارت دی تھی کہ جب تک تم ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتے رہو گے دنیا پر تمہارا بڑا رعب رہے گا۔اب یورپ دولت کی بڑی فراوانی رکھتا ہے وہ بڑے امیر لوگ ہیں۔ہمارا اثر یا ہمارے پیسے کا اثر سکوں میں نہیں۔اللہ تعالیٰ کی رحمت کی شکل میں ہے۔ہمارے خزانے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بھرے ہوئے ہیں۔پاؤ نڈ یا سونے چاندی یا ہیروں سے نہیں بھرے ہوئے۔مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت کی شکل میں جو چیز ہے وہ دنیا کی ہر چیز مثلاً سونے چاندی اور ہیرے جواہرات سے کہیں زیادہ قیمتی اور مفید ہے۔اور پھر وہ بے وفائی کرنے والی بھی نہیں۔یہ دُنیوی سنتے ہی ہیں جو بے وفائی کر جاتے ہیں۔ابھی پچھلے دو تین سال میں آپ نے پڑھا ہوگا کہ ڈالر ڈگمگا گیا یا پاؤنڈ کی کوئی حیثیت نہیں رہی مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے متعلق کبھی آپ نے سوچا یا تصور میں لائے کہ وہ ڈگمگا گئی یا اس کی کوئی قیمت نہیں رہی؟ انسان نے خود کو اس سے محروم کر دیا تو کر دیا لیکن اس کی رحمت کا جو اثر ہے اور اس کی جو افادیت ہے اور انسان کو اس کی جو ضرورت ہے اور انسان کے لئے اس میں جو جوش ہے اس میں کبھی کوئی فرق نہیں آتا۔بہر حال یورپین بڑے امیر لوگ ہیں۔چنانچہ سوئیٹزر لینڈ میں ڈیڑھ پونے دو گھنٹے کی پریس کانفرنس میں ایک شخص جو سوال کر رہا تھا اور وہ بڑا تیار ہو کر آیا تھا۔میرے ذاتی حالات کے متعلق اس نے علم حاصل کیا۔پھر جماعت کے متعلق اور پیچھے پاکستان میں جو الیکشن ہوئے۔اس سلسلہ میں اس نے پتہ نہیں کہاں کہاں سے معلومات حاصل کی تھیں اور وہ بڑی ہوشیاری سے سوال کر رہا تھا۔چنانچہ اس نے مجھ سے سوال پوچھا (یہ میں مثال دینے لگا ہوں رعب کے اس اثر کی جو