خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 276 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 276

خطبات ناصر جلد پنجم خطبه جمعه ۲۸ ستمبر ۱۹۷۳ء بات ہے ہم نے پریس کا جو انتظام کرنا تھا دو چھوٹے چھوٹے پر یس خرید کر بھجوانے کا انتظام کر رہے ہیں۔امید ہے ایک تو جلسہ سالانہ کے قریب یہاں بھی پہنچ جائے گا۔یہ ابھی چھوٹے ہیں مگر بڑے کی ابتدا ہے۔ان فرموں کے نمائندے جو ہمارے پاس معلومات بہم پہنچانے کے لئے آتے تھے اُن میں سے ایک کہنے لگا کہ میرا دل کرتا ہے تفصیل سنے کا میں نے کہا مجبوری ہے اس وقت، وقت بہت کم ہے تفصیل نہیں بتا سکتے پھر کسی وقت سہی۔پس ہماری باتیں سننے کی طرف اُن کی توجہ ہے۔اسلام کی باتیں سنے کی طرف تو ہے لیکن ہم نے سنانے کے سامان پیدا نہیں کئے اور اُن سامانوں کے مہیا کرنے کی طرف جتنی توجہ ہم کر سکتے ہیں اتنی بھی تو جہ نہیں ہے۔غرض یہ منصوبے سامنے آجائیں گے دوست بہت دعائیں کریں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایک تو سیلاب زدگان کی تکالیف کو دور کرے ہمارے پاکستانی بھائیوں کو سیلاب کی وجہ سے مختلف شکلوں میں بہت سی تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے اپنے مکان بنانے ہیں، اپنے جانور خریدنے ہیں، نئے بیج مہیا کرنے ہیں، اپنی کھیتیاں تیار کرنی ہیں ، اپنے لئے خوراک کا انتظام کرنا ہے، اپنے لئے کپڑوں کا انتظام کرنا ہے اور چیزیں بہت مہنگی ہوگئی ہیں اور پھر اپنے بچوں کی پڑھائی کا انتظام کرنا ہے اور کئی دقتیں ہیں۔تاہم یہ آسمانی مصیبت تھی اور اگر آسمان سے کسی وقت خدائی منشا کے مطابق کوئی حادثہ نازل ہوتا ہے تو اس صورت میں اگر انسان انسان سے جھگڑ پڑے اور ایک دوسرے کو الزام دینے لگ جائے تو مسلمان کی عقل اس چیز کو تسلیم نہیں کرتی اس لئے سب کو مل کر یہ کام کرنا چاہیے۔ہمارے ایک سفیر نے ایک پریس کانفرنس سے پہلے مجھے کہا کہ سیلاب زدگان کی امداد کے لئے بھی آپ کچھ کہیں۔میں نے ان کی بات سن لی میں نے تو اپنے رنگ میں کہنا تھا۔چنانچہ میں نے کا نفرنس کے دوران کہا کہ بنی نوع انسان سے پیار اور اخوت کا رشتہ قائم کرنا چاہیے یہ بیان کرنے کے بعد میں نے کہا مثلاً پاکستان میں سیلاب آیا اور ایک دنیا اس وقت دکھ اور تکلیف میں مبتلا ہے اس وقت تمہاری بحیثیت انسان یہ ذمہ داری ہے کہ تم انسانی بھائیوں کی مدد کے لئے پہنچو اور میں تو بڑا حیران ہوتا ہوں کہ بعض لوگ اس کو ایک سیاسی مسئلہ بنا لیتے ہیں حالانکہ یہ ایک انسانی مسئلہ