خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 275 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 275

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۷۵ خطبه جمعه ۲۸ ستمبر ۱۹۷۳ء اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل فرمایا کہ میرے سامنے یہ دو منصوبے آگئے جن کا آپس میں بھی بڑا گہرا تعلق ہے اور ویسے ایک کا تعلق صرف یورپ سے ہے اور دوسرے کا ساری دنیا اور تمام بنی نوع انسان سے ہے کچھ حصے جو اس بڑے منصوبے سے بلا واسطہ تعلق نہیں رکھتے وہ بتا دوں گا کہ بالواسطہ کیا تعلق رکھتے ہیں۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے پریس کانفرنس کے دوران دو جگہ ایک سوال کیا گیا اس نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا اور سوچنے کے نتیجہ میں بہت سے کوائف معلوم کیسے میں نے مبلغین کی ڈیوٹی لگائی ہے کہ فلاں فلاں معلومات حاصل کر کے مجھے بھیجو کیونکہ یہ ہے بڑا ظلم کہ مہدی معہود علیہ السلام آگئے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے اسلام کو غالب کرنے کی بنیاد رکھ دی۔مگر اب تک تبلیغ کا دائرہ وسیع نہ ہو سکا جس کی وجہ سے دنیا کا وہ حصہ جو اس وقت خدا سے بہت دور ہے اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ باتیں تو اچھی ہیں۔اسلام ہمارے مسائل حل تو کرتا ہے لیکن ہمارے عوام تک ان باتوں کے پہنچانے کا کیا انتظام کیا ہے۔پس یہ سوال بنیاد بنی اس یورپین منصوبہ کی جس کا ایک حصہ آپ کے سامنے آجائے گا۔اس کے لئے آپ کو انتظار کرنا پڑے گا۔علاوہ ازیں ہم نے اس سفر میں خدا کے بڑے فضل دیکھے اس کی رحمتوں کو دیکھا چھوٹی چھوٹی چیزوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے پیار کو پایا اور بڑی بڑی باتوں میں بھی اس کی صفات کے حسین جلوے دیکھے اور اس کے قادرا نہ تصرفات کا مشاہدہ کیا۔میں بہت الحمد پڑھتا ہوں اور آپ بھی خدا تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ جب میں جار ہا تھا تو اس وقت بعض منذر خوابوں میں بہت سی شرارتوں کے اشارے تھے۔یہ خواہیں مومنین کو اس لئے بتائی جاتی ہیں کہ استغفار اور دعا اور توبہ اور رُجُوع إِلَى الرَّبِّ الْكَرِيمِ کے ساتھ ان حوادث سے بچنے کی کوشش کی جائے۔اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل فرما یا خیر کے ساتھ ہم گئے اور خیر کے ساتھ ہم وہاں رہے اور خیر سے ہم انگلستان میں بھی اور یورپ کے دوسرے ملکوں میں بھی پھرے اور بے تکلف باتیں کیں ہر چھوٹے سے بھی اور ہر بڑے سے بھی۔کہیں ایک جگہ بھی تکلیف کا احساس نہیں ہوا۔انگلستان کی