خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 264 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 264

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۶۴ خطبه جمعه ۲۸ ستمبر ۱۹۷۳ء غیب کے لفظ کو ہم اپنی زبان میں دو معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ایک اس معنی میں کہ شے موجود تو ہے لیکن ہمارے علم میں نہیں ہے مثلاً سونے کی کانوں میں جوسونا ہے وہ موجود تو ہے اور اس کا وزن بھی معین ہے لیکن ہمیں اس کا پتہ نہیں ہے کہ کس کان میں سونا ہے اور ہے تو کتنا ہے ہمارے لئے وہ غیب میں ہے۔سمندروں کی تہہ میں موتی ہوتے ہیں ان کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے جو سمندر میں پنہاں ہے کچھ حصوں میں تو انسان نے نئے آلات کے ساتھ غوطہ زنی کر کے بعض چیزوں کو پہچانا اور باہر نکالا لیکن ہزار ہا بلکہ بے شمار چیز میں ایسی ہیں جو انسان کے لئے غیب میں ہیں۔اسی طرح ایک ہی وقت میں امریکہ ہمارے لئے اس وقت غیب کی حالت میں ہے یعنی ہمارے علم میں نہیں ہے کہ وہاں اب کیا ہو رہا ہے وہاں وہ اس وقت ( معیاری وقت کے لحاظ سے نو گھنٹے ہم سے پیچھے ہونے کی وجہ سے) سوئے ہوئے ہیں۔گویا امریکہ اس وقت سو یا ہوا ہے اور اس معنی میں بھی عملاً اندھیروں میں ہے لیکن ہمارے لئے اس وقت کے امریکہ کے حالات غیب میں ہیں۔ہمارے لئے اس وقت لاہور، کراچی، راولپنڈی، اسلام آباد اور پشاور وغیرہ کے حالات غیب میں ہیں۔پس چیز موجود تو ہے۔ایک واقعہ ایک حقیقت تو ہے لیکن ہمارے علم میں نہیں اس معنی میں ہم غیب کا لفظ استعمال کرتے ہیں کوئی شے جو موجود ہے یا کوئی واقعہ جو ہورہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔وہ اس کے لئے غیب نہیں ہے۔دوسرے ہم غیب اس معنی میں بھی استعمال کرتے ہیں کہ ایک چیز کا اس وقت وجود تو نہیں لیکن مستقبل میں پیدا ہونے والی ہے ابھی اُس نے وجود نہیں پکڑا مثلاً اگر ہم ماضی پر قیاس کریں زمین کے اندرونے (مَا فِي الْبَرِّ ) پر نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ایک لمبے عرصہ کے مختلف اور بڑے لمبے ادوار میں کیمیاوی اجزاء کی تبدیلی کے نتیجہ میں ہیرا بنتا ہے۔ہو سکتا ہے میں ہوسکتا ہے اس لئے کہتا ہوں کہ ماضی میں ایسا ہوا ) کہ کچھ اجزائے ارضی آج سے دوسوسال کے بعد ہیرے کی شکل اختیار کریں۔آج نہ ہمیں ان کا علم ہے اور نہ ہمارے علم میں وہ آسکتے ہیں کہ ان میں یہ تبدیلی آنے والی ہے کیونکہ اس وقت ان کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کے