خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 258
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۵۸ خطبه جمعه ۱۰ راگست ۱۹۷۳ء آخری انقلاب انقلاب عظیم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کالا یا ہوا انقلاب ہے۔میں سائنس دان نہیں لیکن اس وقت چاند اور ستاروں کی طرف جو راکٹ بھیجے جاتے ہیں ان کے لئے ایک انجن تو وہ ہے جو رفتار اور جہت کو کنٹرول کرتا ہے یا جو Source of power ہے لیکن ساتھ ساتھ دوسرے انجن بھی لگائے ہوئے ہوتے ہیں جن کو Booster کہتے ہیں۔پہلے انبیاء علیہم السلام کے ذریعے سے روحانی انقلاب آئے وہ تھوڑے عرصے کے لئے تھے۔انہیں کسی Booster کی ضرورت نہ تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو انقلاب عظیم برپا کیا اور جس کو کمال تک پہنچنے کے لئے فرمایا کہ چودہ، پندرہ ، سولہ سو سال درکار ہوں یہ کوئی چھوٹا عرصہ نہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا کہ اس عظیم انقلاب کی ابتدا تو ہو چکی اس کی انتہا مہدی معہود کے زمانہ میں ہوگی۔جب تمام بنی نوع انسان کو ایک اُمتِ واحدہ بنادیا جائے گا۔اس میں بہت سی حکمتیں ہیں جن پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے روشنی ڈالی ہے۔جو ایک لمبا مضمون ہے۔بہر حال یہ بتانا ضروری ہے کہ نوع انسانی کے لئے یہ ایک عظیم انقلاب ہے جو آج کل کے تمام انقلابوں سے بڑا ہے۔اور کمیونزم، سوشلزم اور سرمایہ دارانہ انقلاب یہ سب مل کر بھی اس کے مقابلے میں کوئی چیز نہیں۔دو کی ناکامیاں تو ہمارے سامنے ہیں اور تیسرا بالکل ابتدائی دور میں ہے۔ہوسکتا ہے کہ وہ Right turn یعنی صحیح موڑ اختیار کرے اور جو راہ وہ مقرر کرے کسی وقت اسلام کی شاہراہ میں داخل ہو۔آخر ساری دنیا نے اس انقلاب میں شامل ہونا ہے۔اس انقلاب کی جدو جہد نے چونکہ لمبا عرصہ طے کر کے اپنے نقطۂ کمال کو پہنچنا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے تجدید دین کا ایک سلسلہ قائم کیا پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کی امتوں میں یہ سلسلہ نظر نہیں آتا۔مثلاً موسیٰ علیہ السلام کے بعد ان کی اُمت میں انبیاء تو آتے رہے اور موسیٰ کی شریعت بھی قائم رہی اور تورات کی دوسری الہامی کتب بھی ساتھ ہی موجودر ہیں ( یہ بھی ایک علیحدہ مضمون ہے ) بہر حال ان کو ایسے سلسلے کی ضرورت نہ تھی۔قرآنی شریعت جو کامل اور مکمل ہے۔اس کامل شریعت کو چودہ سوسالہ ارتقائی مقام میں سے گزار کر اس مقام تک پہنچا دینا کہ ساری دنیا پر وہ حاوی ہو جائے اور نوع انسانی کو اُمتِ واحدہ بنادے اس کے لئے ضروری تھا کہ Booster قسم کی