خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 241
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۴۱ خطبہ جمعہ ۲۰ ؍ جولائی ۱۹۷۳ء سورۃ فاتحہ میں دو گروہوں کا ذکر ہے۔ایک ضال اور دوسر ا منعم علیه گروه خطبہ جمعہ فرموده ۲۰ / جولائی ۱۹۷۳ء بمقام مرفیلڈ۔انگلستان تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا کہ قرآنِ عظیم میں بنیادی طور پر ایک ہی مضمون بیان ہوا ہے اور وہ ہے صراط مستقیم۔یہ وہ راہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتی ہے اور اس سے ایک زندہ تعلق قائم کرتی ہے۔اس سیدھی راہ سے بھٹکنے والی دائیں بائیں جو پگڈنڈیاں نکلتی ہیں وہ بنیادی طور پر دو قسم کی ہیں۔ایک وہ جن پر چلنے والوں کو سورۃ فاتحہ میں مغضوب کہا گیا اور ایک وہ جن پر چلنے والوں کو ضال کہا گیا ہے۔یعنی ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کے غضب تک لے جانے والے راستے ہیں اور ایک وہ جن پر چل کر انسان جو اللہ تعالیٰ کی یاد کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔صراط مستقیم سے بھٹک کر دوری کی پگڈنڈیوں کو اختیار کرتا ہے۔اس گمراہی کی سزا اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا غضب نہیں بلکہ اصلاح کے لئے اسلام نے جو تصور دوزخ اور جنت کا دیا ہے ایسا انسان پہلے دوزخ میں جا کر اصلاح حاصل کرتا ہے اس کی روحانی صحت کو بحال کیا جاتا ہے تب جا کر اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے قابل ہوتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ سے دوری کو خواہ وہ ایک لحظے کے لئے ہی کیوں نہ ہو۔صحیح انسانی فطرت برداشت نہیں کرتی اور اس کے قہر اور غضب کے تو تصور ہی سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔قرآنِ کریم تلاوت کرتے وقت اس امر کو دریافت کرنا چاہیے کہ وہ کون سا طریق ، کون ساعمل اور زندہ رہنے کی وہ کون سی صبح ہے جس کے نتیجے میں