خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 239
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۳۹ خطبہ جمعہ ۱۳ جولائی ۱۹۷۳ء ہیں لمبا خطبہ نہ دیں۔میں نے کہا ٹھیک ہے کوشش کریں گے کہ خطبہ لمبا نہ ہو۔خدا کرے کہ ان کے نزدیک یہ خطبہ اتنا لمبا نہ ہو۔پس دوست بہت دعائیں کریں اور بہت دعائیں کریں۔عاجزانہ دعائیں کریں۔گڑ گڑا کر دعائیں کریں۔ابتہال کے ساتھ دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ نے جو کام ہمارے سپر د کیا ہے اس کے لئے ہمیں اپنی طاقت کے مطابق جو جو قربانیاں دینی چاہئیں اللہ تعالیٰ وہ وہ قربانیاں دینے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔پھر ہمارے دل تسلی یافتہ ہیں کیونکہ ہمیں پتہ ہے کہ اگر ہمیں توفیق ہے دھیلے کی تو کام ہمارے سپر د کر دیا ہے ایک ارب کا۔باقی اس نے کہا ہے میں انتظام کروں گا کیونکہ میں خزانوں کا مالک ہوں لیکن اگر ہم میں طاقت ہو دھیلے کی اور دیں دمڑی بھی نہ تو پھر خدا نے کہا ہے کہ میں کوئی اور قوم ڈھونڈوں گا اور اسے لا کر تمہارا قائمقام بنا دوں گا پھر تمہارے حق میں خدائی بشارتیں پوری نہ ہوں گی۔خدا ایسا نہ کرے۔ہماری تو یہ دعا ہے کہ جو بشارتیں ہیں وہ ہمیں حاصل ہوں ہماری نسلوں کو بھی حاصل ہوں۔اللہ تعالیٰ کو اس کے لئے کوئی اور قوم نہ ڈھونڈ نی پڑے۔کوئی اور قوم نہ پیدا کرنی پڑے۔یہ تو محاورہ ہے ویسے تو وہ قادر مطلق ہے وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔لیکن اس نے ہماری زبان میں سمجھانے کے لئے ایسا بھی کہا ہے۔بہر حال دعا ہے اللہ تعالیٰ آپ کے اموال میں بھی برکت ڈالے اور گھر یلو حالات میں بھی برکت ڈالے۔آپ کے صدق و وفا میں پختگی پیدا کرے اور آپ کو یہ سمجھ بھی دے کہ آپ کی طاقت کی انتہا کیا ہے اور آپ کو یہ توفیق بھی دے کہ آپ خدا کے حضور اپنی طاقت کی انتہا کو پیش کریں یہ عرض کرتے ہوئے کہ جو تو نے طاقت دی تھی وہ تیرے حضور پیش ہے اور جو کامیابی اور اس توفیق کے درمیان فاصلہ ہے وہ اپنے وعدوں کے مطابق پاٹ دے اور ہمیں کامیابی عطا فرمائے خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )