خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 238 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 238

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۳۸ خطبہ جمعہ ۱۳ جولائی ۱۹۷۳ء کے ایک بجے ( میں دفتر میں لیٹتا تھا ) کام پڑ گیا تو میرے ساتھی مجھے اٹھا دیتے تھے۔لیکن اب عمر کا تقاضا ہے تاہم کام کرنا پڑتا ہے خواہ کیسے بھی حالات کیوں نہ ہوں۔پس ارادہ ہے کہ لندن پہنچ کر چند دن آرام کروں گا۔یہ مجھے یقین نہیں کہ یہ میرا ذاتی کام ہے۔یہ بھی دراصل جماعتی کام ہے آخر میری صحت ہو گی تبھی تو میں جماعتی کاموں کا بوجھ اٹھا سکوں گا۔غرض میری نیت ہے اور میں نے اس کے متعلق اس لئے اظہار کر دیا ہے تا کہ کوئی یہ نہ کہہ دے کہ آپ نے دو چار دن آرام بھی کیا تھا حالانکہ کہا یہ تھا کہ میں ایک دن بھی آرام نہیں کروں گا۔میں نے اس بات کو کھول کر بیان کر دیا ہے کیونکہ خلیفہ وقت اور جماعت ایک ہی وجود کے دو نام ہیں اس لئے میرے ( خلیفۂ وقت ) اور آپ کے درمیان کوئی راز اور تکلف نہیں ہے۔جو بات بھی ہوگی وہ آپ کے سامنے کھل کر بیان کروں گا۔اس لئے کہ ہمارا کام سانجھا ہے۔اگر چہ تھوڑی سی ذمہ داری اہمیت کے لحاظ سے انگلستان اور یورپ پر زیادہ پڑ گئی ہے اسی طرح کچھ مغربی افریقہ پر۔تاہم مجموعی طور پر ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے جس کا ہم نے وہاں جا کر حالات کے لحاظ سے پورا جائزہ لینا ہے۔پس اشاعت قرآنِ عظیم کے لئے اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے میں اس سفر کو اختیار کر رہا ہوں اور آپ سے یہ امید رکھتا ہوں کہ آپ اپنی بھر پور اور عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ میری مددکریں گے اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔یہ کہ ایک چھوٹی سی مہم ہے اس بہت بڑے منصوبے کی جو اشاعت قرآن کے سلسلہ میں رو بعمل آنا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس مہم میں کامیابی عطا فرمائے۔اس وقت بھی میں اپنی طاقت سے زیادہ بول چکا ہوں۔ہر آدمی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ بھی لگایا ہوا ہے۔بیوی کے لئے میاں اور میاں کے لئے بیوی کو اللہ تعالیٰ نے فرشتہ بنادیا ہے۔اس واسطے کہا گیا ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کی کمزوریاں ڈھانپنے کے لئے ثوب کا کام دیتے ہیں۔یہ وہ حقیقت ہے جسے ہماری جماعت میں سے کچھ لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں اور مجھ تک یہ رپورٹ آجاتی ہے کہ فلاں میاں بیوی میں جھگڑا ہو گیا ہے۔میاں بیوی کو آپس میں جھگڑنا نہیں چاہیے بلکہ ایک دوسرے سے پیار کرنا چاہیے۔چنانچہ اب جبکہ میں یہاں نماز پڑھانے کے لئے آیا تھا تو منصورہ بیگم نے کہا تھا میں بھی تھکی ہوئی ہوں اور آپ بھی تھکے ہوئے