خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 231 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 231

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۳۱ خطبہ جمعہ ۱۳ جولائی ۱۹۷۳ء سکوں کیونکہ یہ لوگ تو جب ویزے کی درخواست جائے تو دو ہفتے سے لے کر آٹھ ہفتے تک وقت دیتے ہیں کہ آکر پہلا انٹرویو دو کہ تمہیں ویزا کیوں دیا جائے۔لہذا ایک دن میں تو ویزا ملنا مشکل ہے۔وہ خود بڑے گھبرائے ہوئے تھے۔مجھے خود بھی بڑی تشویش تھی اور پریشانی بھی تھی کہ اللہ تعالیٰ فضل فرمائے ویزا ملنے کی کوئی صورت نکل آئے۔چنانچہ منگل کی صبح نماز کے بعد میں لیٹا ہوا تھا اور اپنے رنگ میں دعائیں کر رہا تھا تو اس دعا کے اندر ایک فقرہ خود میرے دل میں اُبھرا اور اُس نے ایک مجسم شکل اختیار کی۔اس کے پورے الفاظ مجھے یاد نہیں رہے کیونکہ اس وقت میں نے لکھے نہیں تھے۔کچھ اس قسم کا فقرہ تھا۔”مجھ سے امید نہیں ہے؟ اس میں اللہ تعالیٰ کے پیار کا اظہار بھی تھا اور کچھ تھوڑی سے ڈانٹ بھی تھی۔اس سے ایک طرف تو مجھے بڑی تشویش ہوئی کہ میں نے غلطی کی ہے۔خدا تعالیٰ پر امید رکھنی چاہیے تھی۔دعا کے الفاظ میں غلطی ہو گئی ہے۔دوسری طرف مجھے اللہ تعالیٰ کے اس پیار پر اتنا لطف آیا کہ میں بتا نہیں سکتا۔اللہ تعالیٰ اپنے عاجز بندوں سے اتنا پیار کرتا ہے کہ انسان کما حقہ شکر بھی ادا نہیں کر سکتا۔اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ساری مخلوق سے جو رشتہ قطع ہونا چاہیے وہ پوری طرح قطع ہونا چاہیے۔اگر خدا تعالیٰ کی راہ میں کام ہے تو اس قسم کی روکیں لایعنی اور بے معنی ہیں۔چنانچہ جب میں نو بجے کے قریب اپنے دفتر میں گیا تو پرائیویٹ سیکریٹری ( آج کل چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ ہیں ) آئے اور میں نے اُن سے کہا صبح اشارہ ہو گیا ہے۔انشاء اللہ سب کام ٹھیک ہو جائے گا۔ابھی میرے منہ سے یہ فقرہ نکلا ہی تھا کہ دفتر کے ایک اور صاحب دوڑے ہوئے آئے اور کہا کہ فلاں صاحب کا فون آیا ہے۔وہ کہتے ہیں میں برٹش کونسلیٹ سے ملا ہوں وہ کہتے ہیں ٹھیک ہے۔ہم ابھی ویزا دے دیتے ہیں۔وہ ویزا جس کے لئے اُن کے خیال میں دو ہفتے سے آٹھ ہفتے تک صرف انٹرویو پر وقت لگتا ہے ایک دن میں مل گیا۔بلکہ انہوں نے تو یہ بھی کہا کہ حضرت صاحب کے لئے ویزے کی کیا ضرورت ہے۔وہ تو جس ملک میں جانا چاہیں بغیر ویزے کے جاسکتے ہیں۔خیر یہ تو ایک الہی تصرف تھا جو اس کے دل پر ہوا۔ہمارے دوست نے کہا جو آپ کا ملکی قانون ہے وہ تو پورا کرو اور ویزا جاری کر دو چنانچہ دوسرے دن ویزامل گیا۔اب یہ ایک چھوٹی سے بات تھی جس کے لئے صحیح راستہ بھی بتادیا