خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 230 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 230

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۳۰ خطبہ جمعہ ۱۳ جولائی ۱۹۷۳ء پاس کیسے آگئی۔ماؤں کے پیٹ سے لے کر تو کوئی نہیں آیا تھا۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی دین ہے اور یقینا اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کا نتیجہ ہے۔تو کیا اب خدا تعالیٰ کے خزانے خالی ہو گئے ہیں؟ نہیں! اس کے خزانے اب بھی بھرے ہوئے ہیں۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اس پر کامل تو کل اور پوری امید رکھی جائے۔جب اس نے یہ کہا کہ یہ کام کرو۔دنیا میں وسیع پیمانے پر اشاعت قرآن کریم کا یہ کام کرو۔تو وہ اس کے لئے وسائل بھی مہیا فرمائے گا۔خود قرآن کریم نے کہا ہے کہ خدا تعالیٰ کی جو تدابیر نافذ ہوتی ہیں اور منصوبے بنائے جاتے ہیں ان کے لئے اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں ایک وقت مقدر ہوتا ہے۔اس وقت پر وہ کامیابی نمایاں ہو کر بنی نوع انسان کے سامنے آجاتی ہے۔چنانچہ مجھے بھی ایک بشارت کے سلسلہ میں ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ کام اپنے وقت پر ہو گا۔یہ اس وقت کی بات ہے جب میں سپین کا دورہ کر رہا تھا۔اسے میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں۔غرض ہمارے ساتھ تو خدا تعالیٰ بہت پیار کرتا ہے۔اگر کوئی احمدی یہ کہے کہ یہ کیا خدا نے ہمارے ذمتہ اتنا بڑا کام لگا دیا ہے ہم اس کو کیسے کریں گے۔ہمیں اس کی طاقت ہی نہیں ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس احمدی سے بڑا بد قسمت اور کوئی انسان نہیں ہے۔پرسوں کا ایک واقعہ ہے۔میں دوستوں کو بتا دیتا ہوں کیونکہ اس سے خدا کا پیار ظاہر ہوتا ہے۔میرے دل میں اللہ تعالیٰ کی حمد کے جذبات موجزن ہیں۔کسی نے مجھے کہا کہ انگلستان کا ویزہ لینے کے لئے فلاں شخص سے کہا جائے کیونکہ لاہور کے برٹش قونصلیٹ (British Consolate) میں ان کی کسی سے دوستی ہے وہ جلدی ویزہ لے دے گا کیونکہ ہماری تیاری میں دیر ہو گئی تھی ملکی حالات کی وجہ سے پروگرام پیچھے ڈالتے رہے تھے۔اب چند دن بعد ہم نے روانہ ہونا تھا۔چنانچہ میں نے ان کو فون کیا کہ میں اس سلسلہ میں تمہارے پاس آدمی بھجوا رہا ہوں۔تم کوشش کر کے انگلستان کا ویزا حاصل کرو۔میرا پیغام ان کی بیگم نے سنا تھا۔میں نے آدمی بھجوا دیا لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔پیر کی شام کو ان کا فون آگیا کہ حضرت صاحب کو کسی نے غلط بتایا ہے برٹش کونسلیٹ میں میرے کسی سے ایسے تعلقات نہیں ہیں کہ میں ایک دن میں ویزہ لے