خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 159
خطبات ناصر جلد پنجم ۱۵۹ خطبہ جمعہ ۴ رمئی ۱۹۷۳ء پڑے یہ تو ضرور ہوگا لیکن جس مقصد کے لئے جماعت کو پیدا کیا گیا ہے اس مقصد میں انشاء اللہ نا کامی نہیں ہوگی۔پس گھبراہٹ کی کوئی بات نہیں، فکر کی کوئی ضرورت نہیں۔ان نعروں کو ، ان فتوؤں کو ، ان جھوٹی تحریروں کو جو اخباروں میں چھپتی ہیں ان سے ہنستے کھیلتے گزر جاؤ۔ان کو درخورِ اعتنا نہ سمجھو اور دل کے اندر غصہ نہ پیدا کرو بلکہ ایسے لوگوں کے لئے رحم کے جذبات پیدا کرو۔میں تو جب سوچتا ہوں تو مجھے بعض دفعہ یہ دُکھ ضرور ہوتا ہے کہ انسان اپنی گراوٹ میں اتنا بھی گر جاتا ہے کہ وہ پہلے ایک جھوٹ بولے اور پھر اس جھوٹ کو دلیل بنا کر ایک اور جھوٹا اور مفسدانہ مطالبہ کر دے۔یہ اخلاقی گراوٹ اور انسانی فطرت کا مسخ ہونا ہمارے دلوں کو دُ کھ پہنچاتا ہے خوف نہیں پیدا کرتا۔یہ طرز عمل غصہ نہیں دلا تا رحم کے جذبات پیدا کرتا ہے۔پس دوستوں کو چاہیے کہ وہ ان حالات میں دعائیں کریں اور بہت دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عقل اور سمجھ عطا فرمائے ان کی فلاح و بہبود اور تائید و نصرت کے سامان پیدا کر دے۔جس طرح وہ ہم سے پیار کا سلوک کرتا ہے اسی طرح ان سے بھی پیار کرنے لگے یہ لوگ بھی سمجھ جائیں اِن کو بھی عقل آجائے اور خدا کے ایک عاجز اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک عظیم روحانی جرنیل کی جماعت میں شامل ہونے کی ان کو بھی توفیق ملے۔قرآنِ کریم کا یہ وعدہ ہے تا ہم کئی بدقسمت مرجاتے ہیں لیکن کئی ایسے بھی ہوتے ہیں جو لمبے عرصہ تک مخالفانہ حرکتیں کرتے اور مخالفانہ منصوبے باندھتے رہتے ہیں وہ دکھ دیتے اور گالیاں نکالتے ہیں ، مال لٹواتے اور آ گئیں لگواتے ہیں وغیرہ وغیرہ مگر ایک وقت آتا ہے کہ اُن پر حقیقت کھل جاتی ہے اللہ تعالیٰ اُن پر اپنے پیار کے جلوے ظاہر کرتا ہے اور الہی نور ان کو سارے اندھیروں سے باہر لے آتا ہے پھر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جماعت جو آپ کے مہدی معہود کے ذریعہ غلبہ اسلام کے لئے قائم کی گئی ہے اس کے فرد بن جاتے ہیں چنانچہ کل تک جو آگیں لگانے والے دُکھ دینے والے لوٹ مار کرنے والے قتل کے منصوبے بنانے والے تھے آج ایک عاشق خدا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فدائی اور جان شار بن جاتے ہیں اور اسلام کی سربلندی کے لئے بے لوث خدمت کو شعار بنا