خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 111 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 111

خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ ۶ را پریل ۱۹۷۳ء تو ہوتے رہتے ہیں۔مشورے کے بغیر تو زندگی ہی کوئی نہیں نہ پہلے تھی اور نہ اب ہے مثلاً سول انتظامیہ ہے۔وہ بھی آپس میں مشورے کرتی ہے جب مسائل اکٹھے ہو جا ئیں تو علاقہ کا ڈی سی یا سپر نٹنڈنٹ پولیس اپنے ساتھیوں کو بلا کر اُن سے حالات سنتے اور ان کے متعلق مشورے لیتے ہیں لیکن ان کے ذہن میں یہ نہیں ہوتا کہ مشوروں کے متعلق قرآن کریم نے کچھ بنیادی تعلیم عطا کی ہے اور وہ کیا ہے؟ مگر ہم قرآن کریم اور اس کی تعلیم کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔اُن کو تو علم نہیں کیونکہ اُن کو بتانے والا کوئی نہیں۔وہ تو بد قسمت ہیں اس معنی میں کہ ان کو ہدایت دینے والا کوئی نہیں مگر ہمارے لئے تو خدا تعالیٰ نے ہدایت دینے والے پیدا کر دیئے ہیں۔پیدا ہوتے رہے ہیں اور پیدا ہوتے رہیں گے۔تم میں کوئی نہ کوئی موجود رہتا ہے جو تمہیں قرآن کریم کی طرف بلاتا اور اس کی آواز تمہارے کانوں میں ڈالتا رہتا ہے۔یہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ تم قرآنی تعلیم سے فائدہ اٹھاؤ۔یہ صرف سول انتظامیہ تک بات محدود نہیں اسی طرح فوجی مشورے ہوتے ہیں۔اسی طرح وزراء مشورہ کرتے ہیں۔اس طرح صوبوں کے باہمی مشورے ہوتے ہیں۔اگر وہ اقتصادی مشورے ہیں تو اُن میں بنیادی طور پر یہ بات مد نظر رکھنی پڑتی ہے کہ ایسے پروگرام بنائے جائیں کہ جن کے ذریعہ حقوق العباد یعنی وہ اقتصادی حقوق پورے ہوں جن کا ادا کرنا اُمت محمدیہ پر فرض کیا گیا ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے آپ کی یادداشت کو تازہ کرنے کے لئے ایک فقرہ کہہ دیتا ہوں کہ ہر فرد بشر کا یہ حق قائم کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو مختلف طاقتیں اور استعدادیں دی ہیں اُن کی صحیح نشوونما ہو سکے اور نشوونما کے بہترین معیار پر وہ قائم رکھی جاسکیں۔پس ہر اقتصادی مشورہ اگر الہی احکام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں بیان کردہ حقوق العباد کی ادائیگی کا مشورہ ہے تو وہ خیر کا مشورہ ہے اگر وہ اس سے کچھ مختلف ہے تو وہ خیر کا مشورہ نہیں ہے اس لئے کسی احمدی کو ایسا مشورہ دینے کی اجازت نہیں ہے حقیقت یہ ہے اور سچی بات بھی یہی ہے کہ اگر کوئی احمدی قرآن کریم کی تعلیم کو دیدہ دانستہ اور جان بوجھ کر توڑتا ہے۔تو وہ اسی وقت