خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 110
خطبات ناصر جلد پنجم 11۔خطبہ جمعہ ۶ را پریل ۱۹۷۳ء ایک لاکھ روپے کا کپڑا موجود ہے تو حقوق العباد کی ادائیگی یعنی مزدوروں کے حقوق کی ادائیگی بہتر رنگ میں ہو سکتی ہے اگر وہ تلف ہو جائے تو اس کا نقصان ان کو بھی پہنچے گا۔پس احمدی مزدور کے لئے جہاں بدلے ہوئے حالات میں اجتماعی سودے بازی کے مشوروں میں شریک ہونے کی اجازت ہے وہاں انہیں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی اجازت نہیں دی کہ وہ ایسے مشورے کریں جو لا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَّجُوبُهُمْ کے حکم کے ماتحت آتے ہوں۔اس قسم کے مشورے کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔اب چونکہ ملکی صنعت تو خدا کے فضل سے اور ترقی کرے گی اس میں کثرت سے احمدی مزدور اور کاریگر بھی شامل ہوں گے۔مختلف ایسوسی ایشنز اور کارخانوں کی انتظامیہ میں اُن کا بھی حصہ ہوگا اس لئے احمدی دوستوں کو یہ اصول کبھی نہیں بھولنے چاہئیں ورنہ وہ احمدی کیسے رہیں گے؟ کیونکہ ایک طرف تو ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ ہم نے اسلام کی تعلیم کو ساری دنیا میں پھیلانا ہے اور دوسری طرف عمل یہ کہ جب کام کرنے کا موقع پیدا ہو تو ہماری روش لا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَجُوهُمْ کی مصداق بن جائے۔باہمی مشوروں میں بھلائی کی بجائے فساد کے طریق اختیار کرنے کے لئے آپس میں سمجھوتے کرنے کی کوشش میں لگ جائیں۔قرآن کریم کسی مسلمان کو بھی اس کی اجازت نہیں دیتا۔احمدیت سے باہر مسلمانوں کے جو فرقے ہیں اُن کا نہ تو عمل ایسا ہے اور نہ کوئی دعوئی اور نہ ہی اُن کو کوئی ایسی بشارت ملی ہے کہ ان کے ذریعہ اسلام کو ساری دنیا میں غالب کیا جائے گا لیکن ہمیں تو خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں مہدی معہود علیہ السلام کے ذریعہ یہ بشارت دے رکھی ہے کہ اللہ تعالیٰ احمدیت کے ذریعہ احمدیوں کو اپنا آلہ کار بنا کر اسلام کو قرآنِ کریم کی شریعت کو اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلا دے گا۔پس موجودہ حالات میں جہاں ہمیں اجتماعی سودے بازی کے مشوروں میں شامل ہونے کی اجازت دی گئی ہے وہاں ہم پر یہ ذمہ داری بھی ڈالی ہے کہ اپنے اپنے (اور اپنے سے مراد ہے جس کا زمانہ کے ساتھ کسی احمدی کا یا بہت سے احمدیوں کا تعلق ہے ) حلقہ میں خیر کے مشورے دیں۔ہمارے مشورے فساد اور برائی کے مشورے نہ ہوں کیونکہ برائی خیر کی ضد ہے۔مشورے