خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 94
خطبات ناصر جلد پنجم ۹۴ خطبه جمعه ۳۰ مارچ ۱۹۷۳ء ایک لمحہ کے لئے بھی یہ کہنے کی جرات نہیں کر سکتے کہ قرآنِ کریم یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قسم کے عظیم رؤیا اور کشوف اور عظیم روحانی تجربات سے انکار کریں۔اس معنی میں آپ تمام انبیاء پر فضیلت رکھتے ہیں کیونکہ آپ خاتم الانبیاء ہیں اور یہی معنی آپ پر چسپاں ہوتے ہیں۔لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِه اپنی جگہ درست مگر مقام محمدیت مقام ختم نبوت جس کا سورۃ احزاب میں ذکر ہے۔اس مقام محمدیت میں منفرد ہونے کے لحاظ سے آپ آخری نبی ہیں اور خاتم النبیین اور خاتم المرسلین ہیں۔تاہم وہ بنیادی حقیقت جو معراج کی رات نوع انسان کو دکھائی گئی وہ کچھ اور بھی بتاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ مقامِ محمد یت عرش رب کریم پر ہے اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے کوئی شخص روحانی رفعتوں کو حاصل کرتے کرتے ساتویں آسمان تک پہنچ جائے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پہلو میں جگہ پائے۔تب بھی آپ کے آخری نبی ہونے میں کوئی خلل نہیں پڑتا کیونکہ آپ کا مقام تو بہت بلند ہے۔آپ آخری مقام یعنی مقام محمد یت پر فائز ہیں اور یہ یہ مقام ہے جس کے بعد کوئی اور روحانی مقام نہیں ہے۔عرشِ ربّ کریم کے بعد تو کوئی اور چیز ہو ہی نہیں سکتی۔آپ اس آخری مقام پر کھڑے ہیں جہاں تک کسی کا پہنچنا ہی ناممکن ہے کسی کا آگے بڑھنا شرعاً ناممکن ہے۔کسی کا آگے بڑھنا انسانی فطرت کے خلاف ہے کیونکہ فطرت کا نچوڑ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے اور آپ کا مقام مقام محمدیت ہے عرشِ رب کریم ہے۔اگر کوئی امتی آپ کی متابعت میں ساتویں آسمان پر بھی پہنچ گیا تو وہ ختم نبوت میں کیسے خلل انداز ہو گیا۔ختم نبوت کا مقام ساتواں آسمان نہیں ہے بلکہ اس سے بہت بلند بہت پرے ہے اور ختم نبوت یعنی مقام محمدیت کے پرے کوئی چیز نہیں ہے عرش رب کریم کے بعد تو کوئی اور مقام نہیں ہے وہاں تک کسی کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا نہ ہی اس سے ورے رہ کر ختم نبوت میں کوئی خلل پڑتا ہے مثلاً ہمارے سامنے پہاڑیاں ہیں۔ایک شخص سب سے اونچے پتھر پر کھڑا ہے۔وہاں صرف ایک آدمی ہی کھڑا ہو سکتا ہے۔اب نیچے سے ایک اور شخص اوپر چڑھتا ہے اور چڑھتے چڑھتے وہ اس جگہ تو نہیں پہنچ سکتا مگر دس گزورے رہ جاتا ہے۔اس کا دس گزؤرے مقام حاصل کر لینے کا یہ