خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 93
خطبات ناصر جلد پنجم ۹۳ خطبه جمعه ۳۰ مارچ ۱۹۷۳ء پہنچ ہی نہیں سکتا۔یہی وہ مقام اور صاحب مقام ہے جس کی خاطر اس ساری کائنات کو پیدا کیا گیا ہے۔حدیث قدسی لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْأَفَلَاكَ “اسی حقیقت کی مظہر ہے اور اسی لئے یہ وہ مقام ہے جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت بھی ملا ہوا تھا جب آدم ابھی معرض وجود میں نہیں آیا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی خاتم النبیین تھے جب کہ آدم کا وجود مٹی میں کروٹیں لے رہا تھا۔یہی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ہے۔یہی تو آپ کا آخری مقام ہے۔لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِنْ رُسُلِہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رسولوں میں سے ایک رسول کہا گیا ہے۔یہ وہ مقام ہے جو سورہ احزاب کی آیہ کریمہ میں وَلكِن رَّسُولَ اللہ کے الفاظ میں بیان ہوا ہے جس کے بعد آپ کو خاتم النبین قرار دیا گیا ہے یعنی آپ رسول ہیں مگر ایسے رسول کہ آپ خاتم النبیین بھی ہیں اور اس لحاظ سے آپ تمام رسولوں سے منفرد ہیں۔غرض ایک طرف فرما یا رسول رسول میں فرق نہیں کیا جاسکتا باوجود فضیلت کے فرق نہیں کیا جاسکتا۔آخر کی فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ آیت کو لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِہ کی آیت یا آیت کے ٹکڑے نے منسوخ تو نہیں کر دیا کیونکہ قرآن کریم کی کوئی آیت کوئی فقرہ کوئی لفظ کوئی شعشہ کوئی زیر اور کوئی زبر منسوخ نہیں ہوتی اور نہ کبھی ہوئی ہے۔پس فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ اپنی جگہ پر صیح اور لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهِ اپنی جگہ پر درست ہے۔لفظ رسالت میں کوئی فرق نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رسول بھی ہیں اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔رسالت کے اعتبار سے آپ میں اور آدم میں کوئی فرق نہیں کیا جاسکتا لیکن آپ محض ایک رسول ہی نہیں بلکہ آپ خاتم النبین بھی ہیں۔خاتم النبیین کے ارفع مقام کے لحاظ سے کسی اور نبی کو یہ جرات نہ ہو سکتی کہ وہ اس ارفع و اعلیٰ مقام کا دعویدار بنے۔اس میں آپ منفرد ہیں۔آپ کا مقام خدائے ذوالجلال کے داہنی جانب عرش رب کریم پر ہے۔جسے ہم مقام محمدیت کہتے ہیں۔اس معنی میں حقیقتاً آپ ایک عظیم الشان آخری نبی ہیں اور ہم علی وجہ البصیرت آپ کے آخری نبی ہونے پر ایمان لاتے ہیں وہ آخری مقام جو آپ کو معراج میں دکھایا گیا اور آپ نے اس کی جو تصویر کھینچی ہے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور آپ کو آخری نبی مانتے ہیں۔ہم تو