خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 74 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 74

خطبات ناصر جلد چہارم ہیں) باغ کی شکل میں تبدیل کر دو۔۷۴ خطبہ جمعہ ۳/ مارچ ۱۹۷۲ء ویسے تو بہت ساری جگہیں ایسی بھی ہیں جن کو بعض دوستوں نے مکان کے لئے خریدا تھا۔مگر سمجھ نہیں آتی کہ وہ کھلی جگہیں ہیں یا مکانوں کی زمینیں ہیں۔ایسے دوستوں کو توجہ کرنی چاہیے۔اُن پر مکان بن جانے چاہئیں۔جب کبھی ہنگامی حالات پیدا ہوتے ہیں تو پھر لوگ ربوہ کی طرف دوڑتے ہیں اور اس طرح ہمیں بھی ایک اچھا خاصا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔بعض لوگ جن کو مکان کی ضرورت ہوتی ہے یعنی ہنگامی حالات تو نہیں ہوتے ویسے ان کو مکان کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ مالک مکان سے کہتے ہیں کہ مکان کا ایک حصہ کرایہ پر دے دو ( بعض لوگ مفت بھی دے دیتے ہیں) لیکن فرض کرو کرایہ پر مانگا اور وعدہ کیا کہ جس وقت کہو گے ہم خالی کر دیں گے مگر جب ہنگامی حالات پیدا ہوئے اور مالک مکان ربوہ کی طرف دوڑا اور اس نے کہا مکان خالی کرو۔مگر انہوں نے کہا ہم کہاں جائیں؟ اب یہ جواب دینا کہ ہم کہاں جائیں یہ بھی ایک قسم کی خیانت ہے۔تم ایسا وعدہ کیوں کرتے ہو جسے تم پورا نہیں کر سکتے اور اگر اپنا وعدہ پورا کر سکتے ہو تو باہر میدان میں نکل آؤ۔تمہارے جسم کو اگر کوئی تکلیف پہنچ جائے تو اس کا کوئی حرج نہیں لیکن تمہاری روح کو کوئی گزند اور تمہارے اخلاق پر کوئی دھبہ نہیں آنا چاہیے۔اس لئے جو تم نے وعدہ کیا ہے وہ تم پورا کرو یا وعدہ نہ کرو۔آخر جس دن تم نے یہ کہا تھا کہ جب کہو گے ہم مکان خالی کر دیں گے۔اس وقت تم نے جہاں بھی جانے کے متعلق سوچا تھا وہاں چلے جاؤ۔خیر یہ تو ایک ضمنی بات ہے۔میں یہ کہ رہا تھا کہ تم محنت کر کے ساری کھلی جگہوں کو باغ کی شکل میں تبدیل کر دو۔محنت کے علاوہ جہاں تک تمہیں خرچ کرنا پڑے اور تم خرچ کرنے کی مقدرت بھی رکھتے ہو تو خرچ بھی کرو اور جہاں مقدرت نہیں رکھو گے اللہ تعالیٰ فضل کرے گا۔تمہارے لئے کوئی دوسرا انتظام پیدا ہو جائے گا لیکن ابتداء کرنا تمہارا کام ہے اور انجام تک پہنچا نا خدائے رحیم کا کام ہے۔پس اگلے جمعہ سے پہلے یہ کام شروع ہو جانا چاہیے یعنی انتظامیہ بن جانی چاہیے۔ورزش کی طرف توجہ دینی چاہیے۔میں نے یہ بھی کہا تھا کہ کچھ عرصہ کے بعد یہاں کسی نہ کسی کھیل کا ٹورنامنٹ