خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 73
خطبات ناصر جلد چہارم ۷۳ خطبہ جمعہ ۳/ مارچ ۱۹۷۲ء کے لحاظ سے ایک خاص مقام رکھتا تھا۔میں نے دیکھا کہ جس طرف بھی سیر کو جائیں ، اگر سو طلباء راستے میں سیر کرتے ہوئے ملے ہیں تو اُن میں پچاس سے زیادہ Balliol کالج کے ہوتے تھے، غرض وہ بڑا Active (ایکٹو ) کالج تھا۔وہ سویا نہیں رہتا تھا یعنی ” پوستی کا لج نہیں تھا بلکہ ہر چیز میں آگے تھا۔پس سیر ایک بڑی اچھی ورزش ہے اور اس میں ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مختلف نظارے سامنے آتے ہیں۔شہر کے اندر رہتے ہوئے جو چیز میں نظر نہیں آتیں وہ باہر نکل کر نظر آ جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کی جتنی صفات اس کا ئنات میں جلوہ گر ہیں ہمیں اُن کو دیکھنا چاہیے اور اُن کے متعلق غور کرنا چاہیے اور اُن سے لذت حاصل کرنی چاہیے اور اُن سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔اگلے جمعہ سے پہلے یہ کام شروع ہو جانا چاہیے یعنی اس کام کے متعلق پروگرام بنانے کے لئے کمیٹی بیٹھ جائے۔یہ دیکھ کر مجھے بڑی شرم آتی ہے۔( میں بھی اس کا ذمہ وار ہوں ) کہ پچھلے ۲۰ سال سے وہ جگہیں جن کو ہم ربوہ کے کھلے میدان کہتے ہیں یا جس نے ربوہ کا نقشہ بنایا تھا اس نے نقشے میں ان جگہوں کو Open Spaces (اوپن سپیسر ) دکھایا تھا مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کبھی یہاں عمارتیں ہوتی تھیں اور اب اُن کے کھنڈرات رہ گئے ہیں اور جن کی بنیادوں کے نشان بھی مٹ گئے ہیں۔غرض وہ جگہیں آبادی کا حصہ معلوم نہیں ہوتیں اور یہ بڑے شرم کی بات ہے۔پس تمام کھلی جگہوں یعنی Open spaces (اوپن سپیسر ) کوکھیل کے میدان بننا چاہیے۔تم ان کو کھیل کے میدان میں تبدیل کر دو مگر اس شخص کی طرح نہ کرنا جو جون ، جولائی میں دھوپ میں پڑا ہوا تھا اور جسے کسی بھلے مانس راہی نے کہا تھا کہ سامنے ٹھنڈے سایہ دار درخت کے نیچے چلے جاؤ تو اس پر اس نے کہا تھا کہ پھر تم مجھے کیا دو گے؟ تم اس سلسلہ میں محنت کرو۔محنت ہی اصل دولت ہے محنت کی جو دولت ہے وہی دراصل ہمارا سرمایہ اور عزت ہے جس کے گرد امانت کی فصیل کھینچی گئی ہے۔محنت میں اگر خیانت ہو تو یہ ضائع ہو جاتی ہے۔بے نتیجہ اور بے شمر ٹھہرتی ہے یا اس کے ثمر کو کیڑ الگ جاتا ہے لیکن جس دولت کو انسان کی محنت کماتی ہے اُسے اس کی امانت قائم رکھتی ہے۔پس تم محنت کرو اور ساری کھلی جگہوں کو (جو نقشے میں کھلی جگہیں دکھائی گئی