خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 69
خطبات ناصر جلد چهارم ۶۹ خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۷۲ء اقتصادی بحران کی کبھی پرواہ نہیں کرتا کیونکہ اسے پتہ ہوتا ہے کہ آسمان سے امتحانا بلائیں نازل ہوتی ہیں یا ہم خود ہی اپنے لئے بلائیں پیدا کر لیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے یعنی ہمارا تکلیف اٹھانا یا قربانیاں دینا یا خود کو تکلیف میں ڈالنا اس لئے ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہم سے راضی ہو جائے۔پس دنیا کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اقتصادی بحران جماعت احمدیہ کی قربانیوں میں کبھی روک نہیں بن سکتے۔اس واسطے تم ان دو مہینوں کے اندر خدا کی راہ میں قربانیاں دو اس یقین کے ساتھ کہ اگر تم خدا تعالیٰ کی راہ میں مالی قربانیاں دو گے تو دنیوی دولت کے لحاظ سے غریب نہیں ہو جاؤ گے کیونکہ جو شخص خدا تعالیٰ کی راہ میں پیسے دیتا ہے وہ غریب نہیں ہوتا بلکہ اور زیادہ مال دار ہو جاتا ہے تم نے دنیا کو یہ بتانا ہے کہ ہمیں اپنے رب کی طرف سے جو پیار ملا ہے ہم اس کی قدر کرتے ہیں کیونکہ ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے ہیں۔غرض ہمیں اپنے عمل سے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ دنیا میں اقتصادی بحران آئیں، دنیا میں حوادث کی شکل میں طوفان برپا ہوں یا دریاؤں میں طغیانیاں آئیں یا خشک سالی ہو، دنیا میں خواہ کچھ بھی ہوتا رہے ہمارے عزم اور ہمارے ارادے اور ہماری قربانیوں میں کوئی رخنہ اور کوئی نقص پیدا نہیں ہوگا۔ہم پہلے سے زیادہ آگے بڑھیں گے کیونکہ میں نے بتایا ہے فَانْصَبُ میں خالی نئے سرے سے پورے جوش کے ساتھ جد و جہد اور جہاد کرنانہیں بلکہ یہ سب کچھ اس نیت سے کرنا ہے کہ پہلی منزل زیادہ مستحکم ہو جائے اور اس کے اندر اور بھی زیادہ ثبات پیدا ہو جائے اور اسے اور بھی زیادہ رفعت حاصل ہو۔اس طرح ہم اوپر سے اوپر نکلتے چلے جائیں گے اور خدا تعالیٰ سے قریب سے قریب تر ہوتے چلے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں اس بنیادی اصول کو سمجھنے اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو سدھانے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔روزنامه الفضل ربوه ۲۵ / مارچ ۱۹۷۲ ء صفحه ۲ تا ۵)