خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 68 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 68

خطبات ناصر جلد چہارم ۶۸ خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۷۲ء میں نے بتایا ہے کہ انسانی زندگی میں چھوٹا بڑا دور آتارہتا ہے۔ہمارا ایک دور مالی سال پر مشتمل ہے اور وہ اب ختم ہو رہا ہے۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں ہر سال کے پورا ہونے پر فرغت کی کیفیت پیدا ہوتی ہے یعنی جب ذمہ داری پوری ہوگئی ، سارے اجزاء کے مطابق ذمہ داری نباہ لی تو پھر اس کے ساتھ لگتا ہوا دوسرا دور جو ہے اس کے متعلق یہ حکم ہے۔فانصب یعنی ہر دور کے اختتام پر فرغت والی کیفیت پیدا ہونی چاہیے۔انسانی کوشش مکمل ہونی چاہیے ادھوری نہیں رہنی چاہیے اور ہر دور کے آخر پر جو اگلے دور کی ابتداء ہے اس کے لئے فانصب کا حکم ہے کہ اس میں پہلے سے بھی زیادہ زور لگانا چاہیے۔چنانچہ جب ہمارا پچھلا مالی سال ختم ہوا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس وقت جماعت پر یہ بڑا فضل کیا تھا کہ جو ہمارا بجٹ تھا احباب نے اس سے کہیں زیادہ چندے دیئے تھے اب جو بچے ہیں یا جو لوگ جماعت کے اندر نئے داخل ہونے والے ہیں وہ سمجھتے ہیں صرف مالی قربانی دے دی یہ صیح نہیں ہے اس لئے ہماری جماعت کے علماء کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ دو چیزوں کو جماعت کے سامنے پیش کیا کریں ایک یہ کہ جماعت نے ہر مالی سال کے شروع میں ایک اندازہ لگا کر کہ مثلاً اتنی ہماری مالی طاقت ہے اس کے مطابق جتنا منصوبہ بنایا یعنی بجٹ تیار کیا تھا اس سے زیادہ انہوں نے مالی قربانیاں دیں اور دوسرے یہ کہ ان مالی قربانیوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے جتنے پیار کی وہ توقع رکھتے تھے اس سے کہیں زیادہ پیار اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا فرمایا - فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ - اب یہ جو نیا مالی سال ہے جو اب گذر رہا ہے اس کے شروع میں بھی ہم نے یہ عہد کیا تھا کہ ہم اس سال کے دوران فانصب کے حکم پر عمل کریں گے اور پہلے سے زیادہ جد و جہد کریں گے اور اس سال یا اس دور کو بھی اس کے اتمام یعنی کمال تک پہنچا ئیں گے۔اب اس مالی سال کے دور کے صرف دو مہینے باقی رہ گئے ہیں۔ویسے یہ درست ہے کہ دنیوی لحاظ سے یہ بڑی پریشانیوں کے دن رہے، تاجروں کے لئے بھی پریشانی ہے زمینداروں کے لئے بھی پریشانی ہے۔علاوہ ازیں بعض لوگوں کو اپنے علاقوں سے اٹھنا پڑا ہے۔اس لئے ملکی اقتصادیات پر بڑا برا اثر پڑا ہے لیکن کیا اقتصادی دُنیا کے بحران ہمارے عزم اور ہمارے ارادوں پر برا اثر ڈالیں گے؟ ایک مومن تو