خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 611
خطبات ناصر جلد چہارم ་་ خطبہ جمعہ ۲۹؍دسمبر ۱۹۷۲ء جو کچھ ہمیں اس کے عبد بننے میں ملا اس پر ہمارے دل اس کی حمد سے معمور ہیں اور ہم اس کے ممنون ہیں اور ہماری زبانیں اس کی حمد کرتے ہوئے تھکتی نہیں ہمارے گلے خشک ہو جاتے ہیں لیکن ہمارے دل کی دھڑکنوں اور روح کی امواج خدا تعالیٰ کی حمد کر رہی ہوتی ہیں اس اتنے بڑے اجتماع کی برکتیں ہمارے دوسرے کاموں پر بھی اثر انداز ہوں گی اور ان کا ایک عکس پڑے گا روشنی پڑے گی۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ ہماری جماعت وقف جدید کے کام میں بھی جس کی ابتدا یکم جنوری اور جس کی انتہا ۳۱ دسمبر کو ہوتی ہے سالِ رواں کے مقابلہ میں آئندہ سال بہت زیادہ حصہ لے گی۔اپنی بساط کے مطابق ( بہت زیادہ کہنے کے بعد میں رک گیا تھا کہ جماعت تو پہلے ہی ہر کام میں بہت زیادہ حصہ لے رہی ہے اس واسطے میرا دماغ کھڑا ہو گیا کہ کہیں ضرورت سے زیادہ تو مطالبہ نہیں کر رہا ) ، بہر حال خدا تعالیٰ نے زیادہ دیا ہے۔آپ کو پتہ بھی نہیں لگے گا اور نتیجہ زیادہ نکل آئے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ اور نتیجہ اس لئے زیادہ نکلے گا کہ خدا تعالیٰ نے ايَّاكَ نَسْتَعِينُ کی ہماری آج کی دعا کو قبول کیا اس جلسہ میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ جس نئے نئے رنگ میں کہنے کے ہم قابل ہوئے ہیں ہم اپنی طرف سے اپنے زور سے تو اس قابل نہیں ہوئے۔پچھلے جلسہ کے مقابلہ میں جو زیادتی ہے وہ ہماری کسی خوبی کا نتیجہ نہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ ہے۔ہم نے پچھلے جلسہ پر ( دو سال قبل ) کہا تھا۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اے خدا! اس مقام پر ہمیں کھڑے نہ رہنے دینا۔ہم تیرے عاجز بندے ہیں۔اپنی طرف سے کچھ اور دے تا کہ ہمارا قدم اگلے جلسہ کے موقع پر آگے ہی آگے بڑھا ہوا ہر ایک کو نظر آئے یعنی آپ کو بھی نظر آئے اور جو آپ کے کام کے لحاظ سے دوست اور ساتھی ہیں جو جلسہ پر آئے ہوئے تھے اور جو ابھی جماعت میں شامل نہیں ہوئے ان کو بھی نظر آئے کہ جماعت کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔جیسا کہ میں نے جلسہ میں بھی بتایا تھا کہ تحریک جدید اس سال نامساعد حالات کے باوجود آگے نکلی۔اگلے سال انشاء اللہ پھر آگے نکلے گی۔یہی وقف جدید کا حال ہے۔یہ ایک طریق ہے