خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 610 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 610

خطبات ناصر جلد چہارم ۶۱۰ خطبہ جمعہ ۲۹؍دسمبر ۱۹۷۲ء کے حصول کے حقدار بھی قرار دیئے جائیں اور انہیں حاصل بھی کریں۔جلسے کے ساتھ ہی ہمارا وقف جدید کا سال بھی ختم ہو گیا ہے اور نیا سال یکم جنوری سے شروع ہوتا ہے۔یہ بھی ہم یادر کھتے ہیں۔ہمیں بھولنا نہیں چاہیے کہ ہر سال ہمارا قدم آگے ہے یہ ایک حقیقت ہے اور ہر سال ہمارا قدم آگے اس لئے ہے کہ ہم اِيَّاكَ نَعْبُدُ بھی کہتے ہیں اور اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ بھی کہتے ہیں یعنی اپنی توفیق کے مطابق کچھ پیش بھی کرتے ہیں اور خدا کے فضل سے نئی قوتیں بھی حاصل کرتے ہیں۔اب جلسہ کی آخری تعداد جو یہاں جلسہ گاہ کے اندر گئی گئی وہ قریباً ۷۲ ہزا ر ہے یعنی بہتر ہزار احمدی خدا کے فضل سے جلسہ گاہ کے اندر بیٹھے تھے اور اندازہ یہ ہے کہ جلسہ گاہ جب بھر چکی تھی تو پانچ چھ ہزار جلسہ گاہ کے باہر اردگرد پھر رہے تھے۔کچھ ہمارے کارکن جو اپنی اپنی جگہوں پر کام کر رہے تھے وہاں لاؤڈ سپیکر کی آواز چونکہ چلی گئی اس لئے وہ بھی جلسہ میں شامل ہوئے ویسے بھی وہ شامل ہیں کیونکہ وہ خدمت کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور جو ہماری مستورات اور بہنیں اس جلسہ میں شامل ہوئیں ان کا تو شمار نہیں ہو سکا اور نہ ہو سکتا تھا کیونکہ اتنی تھیں کہ گنتی کے لئے جو ماحول پیدا ہونا چاہیے۔وہ نہیں ہوسکا۔وہ ہمارا اندازہ ہے کہ چالیس ہزار کے قریب ہوں گی کیونکہ ہر عارضی حد جو جلسہ گاہ بناتی ہے اس کو پھلانگ کر سینکڑوں گز دور تک پہنچی ہوئی تھیں اور پہاڑیوں کے اوپر چڑھی ہوئی تھیں اور اردگرد کے کھیتوں کے اندر پھر رہی تھیں اور الامہ آ گیا کہ اپنی مستورات کو سنبھال لو ہمارے کھیتیوں میں پھر رہی ہیں اور ہماری کھیتیاں خراب کر رہی ہیں لیکن ہمارے ہمسایہ شریف کسانوں سے شریفانہ تعلقات ہیں۔انہوں نے ان سے تو کچھ نہیں کہا لیکن ہمارے تک یہ پیغام پہنچا دیا تو اندازہ ہے کہ چالیس ہزار خواتین اور اسی ہزار مرد یقینی طور پر جلسہ میں شامل ہوئے۔اس سے زائد ہوں گے کم نہیں یعنی ایک لاکھ بیس ہزار کا مجمع جلسہ گاہ میں تھا۔یہ پہلے جلسہ کی نسبت بہت زیادہ ہے اور ہمارے دل خدا تعالیٰ کی حمد سے معمور ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فرمایا کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ کے مقابل اِيَّاكَ نَعْبُدُ کو رکھا گیا ہے۔اسی واسطے میں نے اس طرح اس حصہ سورۃ کو پڑھا کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ - إِيَّاكَ نَعْبُدُ