خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 602
خطبات ناصر جلد چہارم ۶۰۲ خطبہ جمعہ ۲۲؍دسمبر ۱۹۷۲ء کے مونہہ سے بے ساختہ نکلا کہ تم ضرور کامیاب ہو گے گو ہمیں تو پتہ ہے کہ ہماری کامیابی کا انحصار محض اور محض اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر ہے۔لیکن انہوں نے خدا کو تو پہچان نہیں۔خدا تعالیٰ کے پیار کے جلوے کی ایک جھلک ان دھندلی آنکھوں کو بھی نظر آ گئی۔انہوں نے نتیجہ صحیح نکالا۔گواس کی صحیح وجہ ان کے ذہن میں نہیں آئی لیکن انہوں نے نتیجہ صحیح نکالا۔پس ہم تو ایک کمزور جماعت ہیں۔ہم ایک غریب جماعت ہیں۔ہم بے سرو سامانی کی حالت میں زندگی گزارنے والی جماعت ہیں۔ہمیں سیاسی اقتدار حاصل نہیں اور نہ ہمیں اس کی ضرورت ہے۔یہ ساری چیزیں مسلم ہیں لیکن اس کے باوجود ہم یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم جیتیں گے اِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالٰی۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے بھی ہیں اور ہماری جماعت مِنْ حَيْثُ الْجَمَاعَة یہ کوشش کر رہی ہے کہ وہ خدا کی راہ میں ایسی قربانیاں پیش کرے جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اپنے پیار اور رحمت کے جلوے دکھایا کرتا۔پس اصل چیز یہ ہے کہ اس کا نقشہ ایسا ہونا چاہیے جو ہماری جلسے کی ضرورت کو پورا کرے۔اس کے علاوہ یہ ہمارے لئے سٹیڈیم کا کام بھی دے گو اس کی شکل دنیا کے عام سٹیڈیم سے ذرا مختلف ہو گی لیکن ایک نئی چیز ہم دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہوں گے اور اس طرح ربوہ کے اندر غیروں کی توجہ جذب کرنے کا ایک ذریعہ ہم پیدا کر رہے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس قسم کے سٹیڈیم کی طرز کی جلسہ گاہ تیار کرنے کی جلد توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ کے خزانے تو بھرے ہوئے ہیں اور وہ بڑا عظیم دیا لو بھی ہے اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی تو میں انشاء اللہ جلسہ سالانہ کی تقریر میں آپ کو بتاؤں گا کہ وہ کس طرح جماعت پر اپنے فضلوں کو نازل کر رہا ہے۔کسی ناشکرے کے لئے ناشکری کی کوئی وجہ اس نے نہیں چھوڑی مگر وہ بڑا ہی بد بخت احمدی ہے جو پھر بھی ناشکری کا جذبہ دل میں رکھتا یا ناشکری کا فقرہ اپنی زبان پر لاتا ہے اللہ تعالیٰ ایسے کمزور ایمان پر بھی رحم فرمائے۔بہر حال وہ بڑا دیا لو ہے ہمیں اس کی سخاوت اور اس کے فضلوں کو جذب کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔