خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 598
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۹۸ خطبه جمعه ۲۲ /دسمبر ۱۹۷۲ء ہو۔اس کے خاتمہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جس کام کا آغاز نہیں اس کا انجام بھی کوئی نہیں کیونکہ آغاز ، حرکت پیدا ہونے کا نام ہے اور انجام اس حرکت کا مطلوب و مقصودا اپنے آخری نقطے تک پہنچ جانے اور اس کے حصول کا نام ہے۔یہی اصول ہماری ہر ظاہری حرکت اور ہمارے ہر کام میں کارفرما ہوتا ہے۔غرض ہر کام کا ایک آغاز ہے اور ہر کام کا بفضل خدا ایک انجام ہے۔تاہم میں یہ نہیں کہتا کہ ہر کام کا انجام ضرور ہوتا ہے کیونکہ بہت سے ایسے کام بھی ہیں جن کو انسان بیچ میں چھوڑ دیتا ہے۔ایسا شخص اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث نہیں بن سکتا اور نا کام ہو جاتا ہے لیکن حقیقت اور اصولی طور پر کوئی ایسا انجام نہیں جس کا آغاز نہ ہو۔پس یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بہت سے ایسے آغاز ہیں جن کا کوئی انجام نہیں لیکن کوئی ایسا انجام نہیں جس کا آغاز نہ ہوا ہو۔یہی وجہ ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا ہے کہ تم اپنے انجام بخیر ہونے کے لئے کثرت سے دعا کیا کرو۔جو کام تم نے اپنی زندگی میں پورے شعور کے ساتھ شروع کیا یعنی خدا تعالیٰ کی رضا اور اس کی محبت کو پانے کا کام اور وہ جو ایک زبر دست مجاہدہ اسلام میں شروع ہوا ہے ہر فرد اس میں اپنے انجام کو پہنچے۔ایسا نہ ہو کہ بیچ میں وہ ایمانی لحاظ سے کمزور ہو جائے یا ٹھو کر کھا جائے یا دنیا کی دلدل میں پھنس جائے اور دنیا اسے اپنی طرف کھینچ لے اور پھر وہ اللہ تعالیٰ کے پیار کو بھول جائے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے پیار سے محروم ہو جائے۔پس اگر انجام بخیر ہو تو گویا وہ آغاز کامیابی کے انجام کو پہنچ گیا۔ہمارا ہر کام چونکہ خدا تعالیٰ کی رضا کی ایک کوشش ہے ہمارا ہر آغاز اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوششوں کے لئے ایک ممد حرکت ہے۔اس لئے مجوزہ سٹیڈیم نما جلسہ گاہ بنانے کے لئے حرکت پیدا ہو جانی چاہیے یعنی جلسہ سالانہ کے معابعد جنوری سے کام شروع ہو جانا چاہیے تا کہ آئندہ سال کسی نہ کسی شکل میں ہمیں وہ جلسہ گاہ نظر آئے جو ہمارے بزرگ محترم اور محبوب مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش تھی اور جو آپ ہی کے طفیل ہماری بھی خواہش ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ جو میں نے تعداد بتائی ہے یعنی دولا کھ یا اس سے زیادہ چار پانچ سال کے اندر جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والوں کی تعدا د انشاءاللہ