خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 562 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 562

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۶۲ خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۷۲ء آ جائے اس وقت تک انتظار کرو۔اُس وقت تو زمین کے اوپر لٹا کر بھی اپریشن کر دینا چاہیے کیونکہ اس کی تکلیف کو دور کرنا دراصل اس کی جان کی حفاظت کرنا ہے۔پھر یہ مطالبہ بھی کر دیا کہ اگر تم نے ان ڈور مریض رکھنے ہیں تو اگر ۲۰ مریضوں کی گنجائش ہے یا نہیں چار پائیاں ہیں تو ہمیں نرسیں رکھو۔خواہ کسی وقت وہاں بارہ مریض ہی کیوں نہ ہوں۔حالانکہ یہ معیار تو امریکہ میں بھی نہیں ہے۔چنانچہ کہ دیا کہ فی مریض ایک نرس رکھو تب تمہیں اجازت دیں گے مگر انہوں نے یہ اعتراض کرتے ہوئے یہ نہ سوچا کہ ان کے اپنے بڑے بڑے ہسپتالوں میں تو ایک وقت میں تین تین چار چار نرسیں ہی کام کر رہی ہوتی ہیں اور ہم سے یہ مطالبہ کر رہے ہو کہ فی مریض ایک نرس رکھو لیکن میں نے اپنے دوستوں سے کہا ٹھیک ہے ان سے جنگ ہے چلنے دو۔اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا۔ہم نے جس سہارے کو پکڑا اور جس سہارے پر ہمارا توکل ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ہم تو ایک ادنیٰ خادم ہیں۔ہم تو خدا کے بڑے نکھے مزدور ہیں۔وہ پہلے بھی فضل فرماتا اور ہم نالائقوں سے کام لیتا رہا ہے اب بھی فضل فرمائے گا۔تاہم اپنی طرف سے ہمیں کوشش کرتے رہنا چاہیے۔روحانی ہتھیاروں سے ساری دنیا کا مقابلہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔دوست اس بات کو کبھی نہ بھولا کریں کہ ہمارے سامنے ایک عظیم الشان مقصد ہے یعنی ساری دنیا میں غلبہ اسلام۔اس مقصد کے حصول میں ساری توجہ مرکوز رکھنی چاہیے اور ذرا ذراسی بات پر آپس میں نہیں الجھنا چاہیے کیونکہ میدانِ جنگ میں تو ہر قسم کے الجھاؤ ہر قسم کی پریشانیوں کے باوجود بھی جذبہ اخوت قائم رہتا ہے کشمیر کے محاذ پر سیز فائر کے بعد ایک دفعہ ہمارے ساتھ کچھ صحافی بھی گئے۔ایک صحافی نے ادھر اُدھر دیکھا پاس ہی ایک ریگولر کمپنی کی مشین گن یونٹ تھی۔اس کا فرقان بٹالین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔اس صحافی کو شرارت سوجھی اس نے یونٹ کے ایک آدمی سے پوچھا۔یہاں احمدی غیر احمدی کا سوال تو نہیں اٹھتا۔لاہور کے اس صحافی کا یہ کہنا تھا کہ وہ تو لال پیلا ہو گیا اور کہنے لگا ہم سارے یہاں جانیں دینے کے لئے بیٹھے ہوئے ہیں اور تم اس قسم کی بکواس کر رہے ہو حالانکہ اس وقت سیز فائر ہو چکا تھا اور جان کا زیادہ خطرہ بھی نہیں تھا لیکن بہر حال محاذ جنگ تھا تا ہم بڑا معمولی محاذ