خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 561 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 561

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۶۱ خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۷۲ء گئے ہیں کلینک بند پڑے ہیں ڈاکٹروں کو تنخواہ دے رہے ہیں میل نرسز کو تنخواہ دے رہے ہیں۔حکومت کہتی ہے آج فیصلہ کریں گے۔کل فیصلہ کریں گے میں نے کہا آرام سے بیٹھیں۔ایک دوست تو بہت زیادہ تیز تھے اُن سے میں نے کہا حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب کی جو تعبیر کی تھی وہ تم پڑھ لو۔چنانچہ ان کا مجھے خط آیا کہ میں امیر صاحب سے پوچھوں گا کہ وہ کیا تعبیر تھی اس خواب کی تعبیر یہ تھی کہ سات سال کماؤ گے اور سات سال کھاؤ گے میں نے کہا تم سمجھو کہ یہ وہ زمانہ ہے جو حضرت یوسف علیہ السلام کے وقت میں اس قوم پر آیا تھا کہ پہلے کمائے ہوئے سے کھانا پڑا تھا۔خدا تعالیٰ نے تمہارے مال میں برکت دی اور خدا تعالیٰ نے جو دیا اسے بیٹھ کر آرام سے کھائیں گے ان کی مخالفتوں کے مقابلہ میں ہمارا کام صبر دکھانا ہے وہ سمجھتے کہ دو مہینے نکھے بیٹھیں گے چار مہینے نکے بیٹھیں گے جب تنخواہیں دیتے دیتے تنگ آجائیں گے تو کہیں گے کسی اور ملک میں چلے جاتے ہیں۔میں نے کہا آرام سے بیٹھے رہو۔کتنی دیر تک وہ ہمیں ستاتے رہیں گے آخر کار ہمارا صبر پھل لایا۔چند دن ہوئے خط آیا ہے کہ حکومت نے نو مہینے کے بعد کلینک کھولنے کی اجازت دے دی ہے چنانچہ میرا یہ عزم تھا کہ سوائے اس کے کہ حکومت ان کو حکماً اپنے ملک سے باہر نکال دے ڈاکٹر کو وہاں سے نہیں بلائیں گے کیونکہ جب ملک چھوڑنے کا حکم مل جائے تو پھر تو کوئی شخص اس ملک میں رہ نہیں سکتا۔میں نے دوسرے ملکوں کو اطلاع بھی دے دی تھی۔لیکن میں نے کہا اس سے ورے ورے سال دو سال تین سال تک بیٹھے رہو اس سے مخالفین کو پتہ لگ جائے گا کہ تم میں کتنی سکت ہے۔وہ مقابلہ کر کے دیکھ لیں گے کہ کسی چیز میں بھی اور کسی میدان میں بھی شکست کھانے کے لئے احمدی پیدا نہیں ہوا۔چنانچہ نو مہینے کے بعد اجازت دے دی۔اس سے ہمیں کیا فرق پڑا لیکن اُن کو یہ پتہ لگ گیا کہ اسلام کے ساتھ کوئی آسان مقابلہ نہیں ہے۔غرض عیسائیوں کی سازش ناکام ہو گئی اور ان کو سمجھ آگئی انہوں نے ہمارے کلینک کے متعلق عجیب اعتراض کر دیئے تھے۔ایک یہ اعتراض تھا کہ لکڑی کی میز پر ڈاکٹر کیوں اپریشن کرتا ہے اس کے لئے با قاعدہ اپریشن ٹیبل ہونی چاہیے۔بندہ خدا! اگر ڈاکٹر کے پاس اپنڈے سائنٹس کا ایک مریض درد سے تڑپتا ہوا آئے تو کیا ڈاکٹر اس کو یہ کہے گا کہ جب تک ولایت سے میری ٹیبل نہ