خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 536 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 536

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۳۶ خطبه جمعه ۲۴ نومبر ۱۹۷۲ء دوائیں انتہائی ضرورت کے وقت استعمال ہونی چاہئیں۔اس سے پہلے استعمال نہیں کرنی چاہئیں۔دوسرے میں ڈاکٹروں سے بھی یہ کہوں گا کہ وہ ایسی ادویہ کا اندھا دھند استعمال نہ کرائیں۔انگلستان میں کوئی انگریز ڈاکٹر کسی انگریز پر آنکھیں بند کر کے ان دواؤں کا استعمال نہیں کرتا۔بعض ہمارے احمدی دوست جو بیمار تھے جب وہ انگلستان گئے اور انہوں نے وہاں ڈاکٹروں کو دکھایا تو انہوں نے کہا کہ تمہارے ملک کے ڈاکٹر بھی عجیب ہیں جو اس کثرت کے ساتھ ان دواؤں کو مریض پر استعمال کرا دیتے ہیں یہ تو بڑی مہلک ادویہ ہیں لیکن یہاں لوگ ڈاکٹروں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں چنانچہ کئی ڈاکٹروں نے مجھے بتایا ہے کہ مثلاً ملیر یا بخار کے مریض کہتے ہیں کہ کونین کا ٹیکہ لگا دیں ورنہ ان کی تسلی نہیں ہوگی۔یہ طریق درست نہیں ہے۔ہماری جماعت کو اللہ تعالیٰ نے عقل وفر است عطا فرمائی ہے اس لئے بیماری کے علاج سمیت ہر کام عقل وفراست سے کرنا چاہیے۔کچھ دن ہوئے میری ایک پوتی جو چند مہینے کی ہے اسے بھی اسی بیماری کا شدید حملہ ہوا جو آج کل ملک میں پھیلی ہوئی ہے اسے بار بار اسہال آنے لگے۔میں تو ڈاکٹر نہیں ہوں جن ڈاکٹروں نے بچی کو دیکھا انہوں نے مائی سین تجویز کی چنانچہ بچوں والی مائی سین دینی شروع کی گئی پانچ سات دن گزر گئے مگر آرام نہ آیا یہاں تک کہ نوبت دس دس منٹ کے بعد اسہال تک پہنچ گئی تو میں نے اپنی بہو سے کہا کہ دراصل اب یہ بیماری کے اسہال نہیں اب یہ دوائی کے اسہال شروع ہو گئے ہیں۔اس واسطے تم اس دوائی کو چھوڑ دو۔چنانچہ وہ دوائی چھڑ وادی اور اپنا ہی جو مجھے تھوڑا بہت ہو میو پیتھی کا علم ہے اس کے مطابق علاج کیا تو اسے آرام آگیا۔دو تین سال کی بات ہے ہمارے ایک شاہد مبلغ مجھے ملنے کے لئے آئے تو میں انہیں دیکھ کر حیران ہو گیا پہلے ان کی صحت عام طور پر بڑی اچھی اور چہرے پر رونق رہتی تھی لیکن اب جو میں نے دیکھا تو یوں لگا جیسے وہ نیم مردہ سے ہیں۔میں نے ان سے کہا بات سنو! بات نہ کرنا۔میں نے پوچھا کیا آج کل اینٹی بائیوٹک ادویہ کھا رہے ہو کہنے لگے ہاں میں نے کہا وہ تمہارے چہرے پر ہلاکت کے آثار چھوڑ رہی ہیں۔اس لئے میں آپ کو یہ حکم دیتا ہوں کہ آج کے بعد تم اینٹی بائیوٹک ادویہ استعمال