خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 535
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۳۵ خطبه جمعه ۲۴ نومبر ۱۹۷۲ء میں کھجلی ہو رہی تھی وہ انہیں کہتے تھے کہ ہم آپریشن کے لئے دوبارہ چاقو چلا دیتے ہیں۔دیکھیں گے اگر ٹھیک ہوا تو رہنے دیں گے ورنہ بچہ پیدا کرنے والے نظام کو کاٹ کاٹ کر باہر پھینک دیں گے۔پس انسان نے ایک تو یہ غلطی کی کہ جب جراحی کے سامان ترقی کر گئے تو عمل جراحی حد اعتدال سے آگے بڑھ گیا اور اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے جو حدود قائم کی تھیں ان کا خیال نہ رکھا گیا اور اس سے انسانوں کو آرام آنے کی بجائے مزید تکلیف پہنچی۔علاج کے اس مخصوص طریق میں دوسری خرابی یہ پیدا ہوئی کہ جس طرح انہوں نے آپریشن کے اوزار مثلاً اب تو انہوں نے ایسے چاقو بنالیے ہیں جن میں بجلی کی ایک خاص طاقت کی لہر ہوتی ہے اور وہ ساتھ ساتھ شریانیں بند کرتی جاتی ہے تا کہ بلیڈنگ نہ ہو اسی طرح ادویہ بھی تیار کرلیں جو نشتر ہی کی طرح تیز اور زوداثر ہوتی ہیں مثلاً جتنی اینٹی بائیوٹک وغیرہ ادویہ ہیں یعنی پنسلین اور مائی سین وغیرہ وہ اسی قبیل سے تعلق رکھتی ہیں۔یہ ادویہ دراصل اندھی ہیں۔یہ خراب اور اچھے دونوں قسم کے جراثیم مار دیتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انسان کے پیٹ میں اربوں کی تعداد میں مختلف قسم کے ایسے کیڑے پیدا کئے ہیں جو انسان کے ہضم کے نظام میں اور اس کی صحت کو برقرار رکھنے کے لئے بہت ضروری ہیں مگر مائی سین جو اندھی ہے یہ دے کر اگر بیماری ہے تو نہ صرف بیماری کے کیڑے کو ہلاک کرتی ہے بلکہ ساتھ ہی ان کیڑوں کو بھی تباہ کر دیتی ہے جو انسان کی صحت کے لئے ضروری ہوتے ہیں اور اس طرح اس قسم کی ادویہ کے بالعموم برے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ہمارے اپنے گھر کا ایک چھوٹا بچہ تھا۔اسے مری میں نمونیہ کی کچھ تکلیف ہوگئی تو ڈاکٹر نے اسے اتنی مقدار میں مائی سین دے دی کہ اسے خون کا کینسر ہو گیا یعنی خون کے سرخ ذرے بنے بند ہو گئے۔چنانچہ وہ مائی سین کے غلط استعمال کی وجہ سے جلد ہی وفات پا گیا۔ہمارے ہاں عام آدمی پڑھا ہوا نہیں ہوتا وہ دیکھتا ہے کہ ہمارے محلے میں دو تین آدمیوں کو مائی سین کے استعمال سے فائدہ ہوا ہے تو وہ ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے اور بعض دفعہ ڈاکٹر کہتا بھی ہے کہ مائی سین کی ضرورت نہیں مگر وہ کہتا ہے کہ نہیں مائی سین کا ٹیکہ ضرورلگوانا ہے۔پس ایک تو میں مریض اور اس کے لواحقین کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس قسم کی انتہائی خطرناک