خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 533
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۳۳ خطبه جمعه ۲۴ نومبر ۱۹۷۲ء استعمال کر ولیکن یہ نہ سمجھو کہ بس دواؤں کے نتیجہ میں شفا حاصل ہوگی۔شفا اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملے گی اس لئے اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ اور اس حقیقت کو کبھی فراموش نہ کرو کہ إِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ یعنی انسان اپنی غلطی سے بیمار ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے صحت یاب ہوتا ہے۔غرض یہ توتھی علاج معالجہ کے ضمن میں مریض کی ذہنی کیفیت۔اب ہم طبیب کی ذہنی کیفیت کو لیتے ہیں جو اچھی بھی ہوتی ہے اور بڑی بھی ہوتی ہے مثلاً طبیب کی بُری ذہنیت یہ ہو سکتی ہے کہ جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے طبیب اپنے مریض کے لئے دعا نہ کرے اور اس کی اچھی ذہنیت یہ ہے کہ وہ اپنے مریض کے لئے دعا بھی کرے لیکن دعا کے علاوہ صحیح تد بیر کرنا بھی ضروری ہے۔اس وقت ہمارے ہاں مختلف قسم کی طب رائج ہیں۔ایک کو ایلو پیتھی کہتے ہیں۔اس کی طرح مغربی ممالک نے ڈالی ہے انہوں نے اس پر ریسرچ کر کے اور مختلف اجزاء کو ملا کر کچھ دوائیں تیار کیں اور مشاہدہ اور تجربہ کے ذریعہ ان کی تاثیرات معلوم کیں۔پھر انڈسٹری یعنی صنعت و حرفت کی ترقی کے ساتھ مختلف قسم کے اپریشن ممکن ہو گئے یا اس سلسلہ میں بعض دوائیوں کا استعمال ممکن ہو گیا مثلاً ٹیکہ لگا نا اس وقت تک ممکن نہیں تھا جب تک انسان کوئی ایسی بار یک سی سوئی نہ بنا لیتا جس کے اندر ایسا سوراخ ہو جس کے ذریعہ دوائی مریض کے جسم میں داخل کی جاسکے۔کیونکہ حقے کی نال کے ذریعہ سے تو انسانی جسم میں ٹیکہ نہیں لگایا جا سکتا۔پس پانچ سوسال لے انجکشن لگانے کا سوال ہی نہ تھا یعنی اگر دوائی کی طرف توجہ ہوتی اور ہم بنا بھی لیتے تب بھی چونکہ انجکشن کا طریق معلوم نہیں تھا اس لئے اسے انسان کے جسم میں داخل نہیں کیا جا سکتا تھا۔غرض جب تک صنعت و حرفت کی ترقی سے ایسے سامان نہ پیدا ہو گئے اور انجکشن کی سوئی بنانا ممکن نہ ہو گیا اس وقت تک ان دوائیوں کی طرف انسان کو تو جہ نہیں ہوئی۔شروع میں تو صنعت و حرفت کا صرف یہی مطلب تھا کہ کپڑے بنا دیئے یا شکر کے کارخانے کی مشینری بنادی لیکن آپریشن کے اوزار کی فراہمی تو صنعت و حرفت کی ترقی یافتہ صورت میں ممکن تھی چنانچہ جب صنعت و حرفت نے ترقی کی اور انسان نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے فائدہ اٹھایا اور انجکشن کی سوئی اور ادویہ وغیرہ بنالیں مگر اس سلسلہ میں انسان نے دو غلطیاں کیں ایک یہ کہ سرجن یعنی جس ڈاکٹر کے ہاتھ میں اپریشن