خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 524
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۲۴ خطبہ جمعہ ۱۷ نومبر ۱۹۷۲ء کے لئے بڑی مشق کی ضرورت ہے کیونکہ تنور میں ہر روٹی کے لئے دو دفعہ ہاتھ ڈالنا پڑتا ہے۔لیکن مشین کے اوپر روٹی بنانے کے لئے اس قسم کی مشقت کی ضرورت نہیں صرف جذبہ کی ضرورت ہے۔اگر کوئی عورت مشین پر تکونہ یا ہشت پہلو روٹی پکا دیگی تو ہم وہ بھی خوشی سے کھالیں گے۔پکا ہوا آٹا ہونا چاہیے روٹی کی شکل چاہے کسی قسم کی ہو اس سے فرق نہیں پڑتا۔ہم جب بچے تھے اور سکاؤٹنگ کے لئے باہر جایا کرتے تھے تو خود ہی ”ونگی ٹرنگی اور کچی پکی روٹی پکا کر کھا لیا کرتے تھے۔تاہم جلسہ سالانہ کے دنوں میں نہ تو روٹی کچی ہونی چاہیے اور نہ جلی ہوئی ہونی چاہیے کیونکہ بچے بھی ہوتے ہیں بعض دوست بیمار بھی ہو جاتے ہیں پتہ نہیں کون سی چیز کس کے حصہ میں آنی ہوتی ہے اس لئے کچی اور جلی ہوئی روٹی نہیں ہونی چاہیے لیکن یہ ضروری نہیں روٹی گول ہو یا اوول ہو جیسے صوبہ سرحد میں رواج ہے یا تین کونے یا چار کونے والی ہو۔جس قسم کی روٹی مشین میں تیار ہوگی وہ آپ کو مل جائے گی ایک مشین ایسی بھی ہے کہ اس میں علیحدہ علیحدہ ایک ایک روٹی نہیں بنائی جاتی بلکہ جس طرح کپڑے کا بنا بنا یا تھان باہر نکلتا ہے اسی طرح مشین کے اندر سے روٹی کا ایک تھان نما ٹکڑا باہر نکلتا رہتا ہے جس میں سے آگے کاٹ کر تین تین دود و یا ایک ایک روٹی بنالی جاتی ہے۔غرض ہمیں روٹی ملنی چاہیے ہمیں اس کی شکل سے سروکار نہیں۔اس کی شکل تھان کی ہو یا چاند کی ہو یا زرہ کی ہو یا چورس ہو یا جو بھی ہو پکے ہوئے آٹے کی روٹی ہونی چاہیے۔اسی طرح چاول بھی پورے طور پر پکے ہوئے ہونے چاہئیں تا کہ جلد ہضم ہو جا ئیں اور دوست بیمار نہ ہوں۔بہر حال اللہ تعالیٰ اس نان میں برکت ڈالے گا کیونکہ یہ اس کا وعدہ ہے کہ جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محبوب مہدی کے درویش دنیا میں پائے جائیں گے اس وقت تک فرشتے آسمان سے اُس نان کے مشابہ نان لیتے آئیں گے جو فرشتوں کی طرف سے اللہ کے حکم سے حضرت مہدی معہود علیہ السلام کے حضور یہ کہتے ہوئے پیش کیا گیا تھا کہ یہ تیرے لئے اور تیرے ساتھ کے درویشوں کے لئے ہے تاہم یہ ساری چیزیں جہاں ہمارے لئے باعث طمانیت ہیں وہاں ہمارے اوپر ذمہ داریاں بھی عائد کرتی ہیں۔اس لئے ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم ان ذمہ داریوں کو نباہنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔