خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 419 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 419

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۱۹ خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۷۲ء ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور رضا اور اس کی صفات کی معرفت میں دن بدن ترقی کرتا ہے۔وہ نور جو خدا تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کو عطا فرماتا ہے۔اس نور میں روز بروز زیادہ شدت پیدا ہوتی ہے۔ویسے نور اور نور میں بھی فرق ہے۔ایک نور ہے سرسوں کے تیل سے جلنے والے دیئے کا۔اس کی بھی ایک روشنی ہے اور ایک روشنی ہے سورج کی۔ظاہر ہے ان کے درمیان بہت فرق ہے۔جس طرح دیئے اور سورج کی روشنی میں بہت بڑا فرق ہے۔اسی طرح سورج کی روشنی اور اللہ تعالیٰ کے نور میں بے اندازہ فرق ہے۔اللہ تعالیٰ کے نور کی اصل حقیقت کا تو ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ایک نہ ختم ہونے والی ترقی اور حرکت ہے جو انسان کو خدا کے قرب کی طرف لے جارہی ہے۔یہ ایک نہ ختم ہونے والی حرکت ہے یہ تو ابدی زندگی میں بھی ختم نہیں ہوگی۔کیونکہ خدا کے بندے اور خدا کے درمیان لامحدود فاصلہ ہے۔جہاں تک ہماری جماعت کا تعلق ہے اس کی تاریخ میں مختلف مراحل میں مختلف حالات پیدا ہوتے رہے ہیں کبھی ہمارا مخالف بڑے زوروں پر ہوتا ہے۔وہ کہتا ہے بس آج نہیں تو کل جماعت احمدیہ کو مٹادیا جائے گا۔کبھی مخالف کے مکر اور تدبیر میں کمزوری نظر آتی ہے۔کبھی جماعت کے اندر دنیا کو نسبتا کمزوری نظر آتی ہے۔کبھی نسبتاً زیادہ طاقت نظر آتی ہے۔جس وقت ہمارے اندرنسبتا کمزوری ہوتی ہے اس وقت بھی ہمیں کوئی خوف نہیں ہوتا کیونکہ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ جماعت نا کام نہیں ہوگی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی تحدی کے ساتھ فرمایا ہے : ” میری فطرت میں ناکامی کا خمیر نہیں ہے۔“ قرآن کریم نے بھی مومنوں کو یہ بشارت دی تھی :۔انْتُمُ الْأَعْلَونَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (ال عمران :۱۴۰) اگر تم مومن ہو تو پھر تم ہی غالب رہو گے۔حقیقت یہی ہے کہ جنگ کا آخری نتیجہ ہی فیصلہ کن ہوتا ہے۔چھوٹی چھوٹی جھڑپوں سے فیصلے نہیں ہوا کرتے۔اسلام کی اس نشاۃ ثانیہ میں دشمنانِ اسلام کے مقابلے پر بالآخر مسلمانوں ہی