خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 367
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۶۷ خطبه جمعه ۱۸ راگست ۱۹۷۲ء جب ان میں سے کوئی آدمی خدام الاحمدیہ کے اجتماع میں آجاتا ہے تو جب مجلس خدام الاحمدیہ اپنے حاضری کے رجسٹر پر اسے درج کرنا چاہتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی جماعت کا نمائندہ نہیں کیونکہ اس کی جماعت کا نام ہمارے رجسٹروں میں درج ہی نہیں ہوتا۔پھر وہ ویسے ہی اجتماع میں تقریریں سن کر یا کھیلیں دیکھ کر چلے جاتے ہیں اور اکثر نہیں بھی آتے۔میرے خیال میں اکثر یہی ہوتا ہے کہ اُن کا کوئی نمائندہ شامل ہی نہیں ہوتا۔پس تمام جماعتوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اس سلسلہ میں بھی کوشش کریں تاکہ خدام کے اجتماع میں ان کی نمائندگی سو فیصد تک پہنچ جائے۔چوتھے میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ خدام الاحمدیہ کے اجتماع کے موقع پر ذمہ داریاں بٹ جاتی ہیں جہاں تک منتظمین کی ذمہ داریوں کا تعلق ہے وہ تو مختلف النوع ہیں میں صرف اجتماع کے پروگرام کے متعلق یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پروگرام ایسا بنانا چاہیے کہ وہ نوجوان احمدیوں کی اصلاح نفس میں زیادہ سے زیادہ محمد ہو۔پانچویں نو جوان احمدیوں کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اجتماع کے دوران میں اپنے اوقات کو نیکی کی باتیں سننے اور سنانے میں خرچ کریں تا کہ جب وہ اپنی جماعتوں میں واپس آئیں تو اپنے دل میں زیادہ سے زیادہ اخلاص اور نیکی محسوس کریں اور پھر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں خلوص سے کام کرنے اور نیکی پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔پس ہمارے ہر چھوٹے اور بڑے خصوصاً نو جوانوں کو یہ بات کبھی بھولنی نہیں چاہیے کہ آج دنیا میں ہم نے اللہ تعالیٰ کی خاطر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر اور اسلام کو ساری دنیا پر غالب کرنے کی خاطر جو جنگ لڑنی ہے وہ کوئی معمولی جنگ نہیں ہے وہ بڑی زبر دست جنگ ہے۔دہریت ( جسے ہم اشتراکیت اور کمیونزم بھی کہتے ہیں) دنیا کی آدھی آبادی بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ حصے پر چھائی ہوئی ہے۔دوسری طرف مذہب کے نام پر زندہ رہنے والی قو میں خواہ کتنی ہی کمزور ایمان والی کیوں نہ ہوں یا بد مذہب جن میں کسی نبی کی تعلیم کا ایک معمولی سا عکس نظر آتا ہے اور اسے بھی وہ اب بھول چکے ہیں لیکن بہر حال وہ لا مذہب نہیں کہلا سکتے۔( بد مذہب کی اصطلاح نئی نہیں ہے اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے استعمال فرمایا ہے۔انہوں