خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 342 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 342

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۴۲ خطبه جمعه ۱۱ راگست ۱۹۷۲ء تینوں معنوں میں ہلاکت کا لفظ اس دنیا کے فساد کے ماحول پر چسپاں ہوتا ہے لیکن آگے ہلاکت کے بنیادی طور پر عقلاً اور مشاہدہ دو مفعول بن سکتے ہیں ایک حدث “ کی ہلاکت اور دوسرے نسل کی ہلاکت۔عربی زبان کے لحاظ سے حرث کے جو معنے ہیں اور جس رنگ میں اسے اس آیت میں رکھا گیا ہے اس سے ایک بڑا عجیب مفہوم پیدا ہوتا ہے اور درحقیقت یہ لفظ ایک وسیع معنوں کی نشاندہی کر رہا ہے۔چنانچہ حرث کے معنی عربی زبان میں صرف کھیتی کے نہیں ہوتے۔ویسے کھیتی کے معنوں میں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے یعنی جو محروث ہے اسے بھی حرث کہتے ہیں لیکن اس کے اصل معنے کھیتی کے نہیں ہوتے۔اس کے اصل معنے مادی ذرائع پیداوار کے ہیں۔جن کے اندر انسان کا اپنی محنت سے ایسی تبدیلیاں پیدا کرنا مقصود ہے کہ وہ انسان کی فلاح کے سامان کا ذریعہ بن جائیں تاہم یہ لفظ جب زمین کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے تو اس کے معنے ہوتے ہیں۔الْقَاءُ الْبَدْرِ فِي الْأَرْضِ وَتَهَيُّوهَا لِلزِّرْعِ یعنی کھا د وغیرہ ڈال کر اور ہل وغیرہ چلا کر زمین کو کاشت کے قابل بنادینا یعنی جو اس سے ہم نے پیداوار لینی ہے زمین کو اس کے قابل بنا دینا اسی طرح کھیتی کو یا کمائی کو جو ہم اس سے حاصل کرتے ہیں اس کو بھی حرث کہتے ہیں۔تاہم اس کا اصل اور بنیادی مفہوم یہ ہے کہ مادی ذرائع کو اپنی کوشش کے نتیجہ میں اس قابل بنا دینا کہ اس سے ہم اپنی انفرادی اور خاندانی اور ملکی اور عالمگیر فلاح و بہبود کے سامان پیدا کر سکیں۔یہ ہیں حرث کے اصل معنے۔ویسے جب عربی میں ہم یہ کہتے ہیں کہ حَرَثَ ناقتہ تو اس کے معنے ہوتے ہیں إِذَا اسْتَعْمَلَهَا یعنی اونٹنیوں کا استعمال کیا اور اونٹنیوں کا استعمال تو ان کی سواری ہوتی ہے۔اس کے علاوہ بھی اونٹ بڑا مفید جانور ہے۔اس کا گوشت کھا ئیں تب فائدہ پہنچتا ہے۔اس کی کھال کو استعمال کریں تب فائدہ پہنچتا ہے۔اس کی ہڈیوں کو مختلف کاموں میں استعمال کریں تب فائدہ پہنچتا ہے۔اس کے دودھ کو استعمال کریں تب فائدہ پہنچتا ہے یا پھر اس پر سواری کریں خصوصاً خلوص نیت کے ساتھ حج کے لئے جائیں تب فائدہ پہنچتا ہے۔چنانچہ ایک صحابی سے کسی نے پوچھا کہ فلاں موقع پر تم نے اپنی اونٹنیوں کا کیا کیا تھا۔تو انہوں نے کہا حر تنھا ہم نے ان کا موقع کے لحاظ سے استعمال کیا یعنی ان پر سواری کی۔